عالمی نگرانی کے بغیر اے آئی مفید کی بجائے نقصان دہ ہو سکتی ہے، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمگیر نگرانی کے معاملے میں انسانی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
برطانیہ کے زیراہتمام مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حفاظتی اقدامات پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس ٹیکنالوجی سے لاحق خدشات، مسائل اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع پر پائیدار اور منظم بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے انتظام کو مربوط بنانے کا مشمولہ، مساوی اور عالمگیر پلیٹ فارم ہے اور اب یہ اس بات چیت میں پوری طرح شامل ہے۔
یہ کانفرنس معروف بلیچلی پارک اسٹیٹ میں منعقد ہوئی جہاں دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کے اہلکاروں نے نازیوں کے جنگی کوڈ سمجھنے کا بہت بڑا کارنامہ انجام دیا تھا۔
مصنوعی ذہانت کا انتظام: تین اہم شعبے
انتونیو گوتیرش نے مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور انتظام کے حوالے سے فوری اقدامات کے لیے تین اہم شعبوں کا تذکرہ کیا۔
سب سے پہلے انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے طاقتور نمونوں کے اجرا سے متعلق موجودہ خدشات سے نمٹنے کے لیے کہا جن کے حوالے سے فی الوقت خاطرخواہ حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا فقدان ہے۔
بعدازاں انہوں نے مصنوعی ذہانت کے طویل مدتی منفی اثرات پر خدشات کا اظہار کیا جن میں نوکریوں پر اس کے اثرات، یکطرفہ الگورتھم کے سبب ثقافتی تنوع کے خاتمے اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کی صرف چند ممالک میں موجودگی سے پیدا ہونے والے ارضی سیاسی تناؤ کا جائزہ لینا شامل ہے۔
اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ فوری اقدامات کے بغیر مصنوعی ذہانت ایسی عدم مساوات میں مزید اضافہ کر دے گی جو پہلے ہی وسیع ہو رہی ہےاور یہ خدشہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔
اخلاقی اصول
سیکرٹری جنرل نے ان خدشات پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے لیے باہم متقاطع اخلاقی اصولوں کے 100 سے زیادہ مختلف مجموعوں کی تیاری کا تذکرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھروسے، شفافیت، احتساب اور مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کو بند کرنے کی اہلیت جیسے اصولوں پر دنیا میں وسیع تر اتفاق رائے ہے تاہم اس حوالے سے غیرہم آہنگی اور خامیوں پر قابو پانے کے لیے عالمگیر نگرانی درکار ہو گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت پر اپنے نئے مشاورتی بورڈ کے آغاز سے متعلق بتایا جو حکومتوں، کاروباروں، ٹیکنالوجی سے متعلق لوگوں، سول سوسائٹی اور ماہرین علم پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعتاً عالمگیر اقدام ہے جس میں دنیا کے ہر حصے کی نمائندگی ہے اور اس کا مقصد منظم، مشمولہ اور آگاہی پر مبنی طریقوں کو فروغ دینا ہے جن کی ضرورت ہے۔
مستقبل کے لیے شراکتیں
مشاورتی بورڈ یورپی یونین اور جی7 کے شروع کردہ دیگر عالمگیر اقدامات کے ساتھ کام کرے گا اور اس معاملے پر سائنسی اتفاق رائے پیدا کرنے اور مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کے لیے فائدہ مند بنانے کی غرض سے رواں سال کے آخر تک اپنی ابتدائی سفارشات پیش کرےگا
یہ سفارشات عالمگیر ڈیجیٹل معاہدے کی تیاری میں مدد دیں گی جسے آئندہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام 'مستقبل کی کانفرنس' میں منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دیگر الفاظ میں کہا جائے تو اس کا کام مصنوعی ذہانت کو بین الحکومتی طریقہ ہائے کار اور ایک موقر عالمی کانفرنس کا حصہ بنائے گا۔