ایمازون سمیت کئی امریکی کمپنیوں کے ملازمین ’غربت کا شکار‘
غربت سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کے ماہر نے امریکہ کی بڑی کاروباری کمپنیوں ایمازون، ڈور ڈیش اور وال مارٹ کے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ کارکنوں کو ناکافی اجرت دینے اور انجمن سازی کے لیے ان کے حق کی پامالی کے الزامات کی وضاحت کریں۔
شدید غربت اور انسانی حقوق کے معاملات پر اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر آلیور ڈی شٹر نے ان کمپنیوں کو الگ الگ خطوط لکھے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کے ملازمین کو اپنی بقا کے لیے حکومتی مدد پر انحصار کیوں کرنا پڑتا ہے۔
ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی، ڈور ڈیش کے سی ای او ٹونی ژو اور وال مارٹ کے سی ای او ڈگ میکملن کے نام لکھے گئے ان خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو غلط طور سے 'آزاد ٹھیکہ دار' ظاہر کرنے، انہیں کم از کم اجرت کی ضمانت جیسے ملازمت کے روایتی فوائد سے دانستہ طور پر محروم رکھے جانے کی اطلاعات کی بھی وضاحت کریں۔
ڈی شٹر کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ان کے لیے انتہائی پریشان کن ہیں کہ کرہ ارض پر امیر ترین ملک میں دنیا کی انتہائی منافع بخش کمپنیوں میں سے بعض کے کارکنوں کو کھانا کھانے یا گھر کا کرایہ دینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اربوں ڈالر مالیتی کمپنیوں کو اپنے کارکنوں کو اچھی اجرتیں نہ دے کر ان کے انسانی حقوق پامال کرنے کے بجائے حالات کار اور اجرتوں کے حوالے سے معیارات مقرر کرنا چاہئیں۔
غیرمعیاری ملازمتی معاہدے
خصوصی اطلاع کار نے امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں ان تینوں کمپنیوں کو حکومت سے طبی و غذائی مدد لینے والے بڑے آجر قرار دیا گیا ہے۔
ملازمت پیشہ غریبوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیرمعیاری ملازمتی معاہدہ کام کے باوجود غربت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
امریکہ میں تقریباً 6.3 ملین لوگ ایسے ہیں جنہیں برسرروزگار ہونے کے باوجود غریب قرار دیا گیا ہے اور ملک اجرتی پالیسیوں، کارکنوں کو حاصل تحفظ اور تنظیم سازی کے حق کے اعتبار سے اعلیٰ آمدنی والے دیگر تمام ممالک سے بہت پیچھے ہے۔
انجمن مخالف کارروائیاں
آلیور ڈی شٹر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ایمازون اور وال مارٹ کے کارکنوں کی اچھی اجرتوں کے لیے مذاکرات کی اہلیت کو ان کے آجروں کی جانب سے کارکنوں کی انجمنوں کے خلاف جارحانہ اقدامات سے بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ بعض کمپنیاں انجمن سازی کے لیے کارکنوں کی کوششوں کا مقابلہ کرنے پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔
خصوصی اطلاع کار نے امریکہ کی حکومت کو بھی ان الزامات کی بابت مطلع کیا ہے اور ملک میں ملازمت پیشہ لوگوں میں بڑے پیمانے پر پھیلی غربت سے نمٹنے کے منصوبوں کی بابت اطلاع دینے کو کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ امریکہ اپنے طاقتور ترین کاروباری اداروں کی جانب سے کارکنوں کی انجمنوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور انہیں کارکنوں کو انتہائی کم اجرتیں دینے اور کاروباری منافع بڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔
ماہر نے 31 اگست کو لکھے گئے خطوط کا 60 یوم میں جواب دینے کو کہا تھا۔ اب تک صرف ایمازون نے ہی اپنا جواب بھیجا ہے تاہم اس نے تمام خدشات کی شافی وضاحت نہیں کی۔ امریکہ کی حکومت، ڈور ڈیش یا وال مارٹ کی جانب سے تاحال ان خطوط کا کوئی جواب نہیں آیا۔
خصوصی اطلاع کار کون؟
انسانی حقوق کے بارے میں خصوصی اطلاع کار اور دیگر غیرجانبدار ماہرین اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ ہائے کار کا حصہ ہیں۔ یہ اطلاع کار/ماہرین رضاکارانہ اور بلامعاوضہ کام کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور کسی بھی حکومت یا ادارے کے ماتحت کام کرنے کے بجائے آزدانہ طور سے خدمات فراہم کرتے ہیں۔