اسرائیل فلسطین بحران: غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 5000 سے زیادہ ہوگئی
غزہ پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5,087 ہو گئی ہے جبکہ 1,000 سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ مصر سے تیسرا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا ہے جبکہ امدادی ادارے جنگ بندی اور مزید مدد بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر او سی ایچ اے(اوچا) نے غزہ کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ علاقے میں ہلاک ہونے والوں میں 62 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ اب تک 15,273 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
لاپتہ لوگوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملبے تک دبے ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں۔
اوچا نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس تنازعہ میں ان کے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد 1,400 تک پہنچ گئی ہے جن میں بیشتر 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کا نشانہ بنے۔
یہ تعداد 2005 سے حالیہ تنازعے کے آغاز تک فلسطینیوں کے ساتھ لڑائیوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی مجموعی تعداد سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کم از کم 212 اسرائیلی شہری اور غیرملکی غزہ میں یرغمال بنائے گئے ہیں۔گزشتہ جمعے کو ان میں سے دو یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے حماس پر متواتر زور دیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کرے۔
طبی مدد کے لیے محفوظ راستہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے غزہ میں طبی سازوسامان اور ایندھن کی فراہمی کے لیے محفوظ راستہ دینے کی دوبارہ اپیل کی ہے تاکہ علاقے میں طبی مراکز کام کرتے رہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ غزہ میں زندگیوں کا دارومدار انہی فیصلوں پر ہے۔
اطلاعات کے مطابق مصر سے رفح کے سرحدی راستے سے 34 ٹرکوں پر مشتمل تیسرا امدادی قافلہ اتوار کو غزہ میں داخل ہوا۔ اس امداد کی فراہمی کڑی سفارتی کوششوں کی بدولت ممکن ہوئی۔
اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کے ہوتے ہوئے روزانہ امدادی سامان کے کم از کم 100 ٹرک بھیجے جانا ضروری ہیں۔
ایندھن کی اشد ضرورت
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس ذخیرہ شدہ ایندھن آئندہ تین روز میں ختم ہو رہا ہے جس سے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی انجام دہی خطرے میں پڑ جائے گی۔
'انرا' کے سربراہ فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ ایندھن کے بغیر غزہ میں پانی نہیں ہو گا اور ہسپتال اور تنور کام نہیں کر سکیں گے جبکہ بچوں، خواتین اور دیگر لوگوں پر زندگی مزید تنگ ہو جائے گی۔
تعلیمی نقصان
اوچا نے بتایا ہے کہ غزہ میں 625,000 سے زیادہ بچے کم از کم 12 روز سے تعلیم سے محروم ہیں اور بمباری سے 206 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں کم از کم 29 سکول 'انرا' کے زیراہتمام چلائے جا رہے ہیں۔
ادارے نے یہ بھی بتایا کہ 7 اکتوبر کے بعد اس کے عملے کے 29 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف تعداد اساتذہ کی ہے۔
اس کشیدگی کے باعث مغربی کنارے میں بھی تعلیم تک رسائی میں رکاوٹیں بڑھ گئی ہیں۔
اوچا کے مطابق علاقے میں تمام سکول 7 تا 9 اکتوبر بند رہے جس سے تقریباً 782,000 طلبہ کی تعلیم کا حرج ہوا۔ گزشتہ ہفتے تک 230 سے زیادہ سکول دوبارہ نہیں کھل سکے تھے جہاں تقریباً 50,000 طلبہ کو تعلیم دی جاتی ہے۔