انکوائری کمیشن کے پاس یوکرین میں جنگی جرائم کے مزید ثبوت
یوکرین میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے بتایا ہے کہ ملک میں روس کے حکام تشدد، جنسی زیادتی اور بچوں کی ملک بدری سمیت جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
یوکرین کے حالات پر کمیشن کی شائع کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں سے اندھا دھند حملوں کے نتیجے میں لوگ ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس بارے میں کمیشن نے اپریل میں چرکیسی نامی علاقے کے شہر اومین میں کثیرالمنزلہ رہائشی عمارتوں پر حملے کی مثال پیش کی ہے جس میں زیادہ تر خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد ہلاک ہو گئے اور اس عمارت کا بیشتر حصہ رہائش کے قابل نہ رہا۔
کمیشن کے ارکان نے ملک میں اپنے حالیہ دورے کے موقع پر روس کی افواج کے تشدد سے متاثرہ لوگوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ جمعے کو شائع ہونے والی کمیشن کی یہ رپورٹ مارچ میں اسی معاملے پر لیے گئے ایک جائزے کا تسلسل ہے۔
نئے ثبوت، وہی تشدد
حالیہ تحقیقات میں اس سے پہلے سامنے آنے والی اطلاعات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ روس کے حکام نے اپنے کئی طرح کے قید خانوں میں بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں تشدد سے کام لیا۔
تحقیقاتی کمیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ متاثرین اور عینی شاہدین کے ساتھ ان کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے حکام انسانی وقار کی شدید توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کمیشن کو ایسے واقعات کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں لوگوں پر اس قدر وحشیانہ تشدد کیا گیا کہ ان کی جان چلی گئی۔
کیرسون اور ژیپوریژیزیا سے حاصل ہونے والی نئی شہادتوں کے مطابق روس کے حکام نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں تشدد کے انہی طریقوں سے کام لیا جن کا کمیشن کی پہلی جائزہ رپورٹ میں تذکرہ ہے۔ ایسے بیشتر طریقے مردوں کے خلاف استعمال ہوئے جن پر یوکرین کے حکام کو معلومات فراہم کرنے یا یوکرین کی مسلح افواج کو مدد دینے کا الزام تھا۔
گہرے صدماتی اثرات
کیرسون اور ژیپوریژیزیا میں کی جانے والی حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین میں روسی فوج کی جانب سے جنسی زیادتی اور دیگر طرح کے جنسی تشدد کا ارتکاب عام طور پر تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ساتھ ہوتا ہے جن میں شدید مار پیٹ، گلا گھونٹنے، جسم کو تیز دھار آلات سے کاٹنے، متاثرہ فرد کے سر کے قریب گولی چلانے اور انہیں عمداً قتل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ایک واقعے میں اپنی املاک کی حفاظت کے لیے اکیلی رہنے والی 75 سالہ خاتون کو ایک روسی فوجی اہلکار نے دوران تفتیش جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران اسے چہرے، چھاتی اور پسلیوں پر ضربیں لگائیں اور اس کا گلا گھونٹا۔
سپاہی نے اس خاتون کو بے لباس ہونے کے لیے کہا اور جب اس نے انکار کیا تو اس کے کپڑے پھاڑ دیے، اس کے پیٹ پر تیز دھار آلے سے زخم لگائے اور کئی مرتبہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران خاتون کی متعدد پسلیاں اور دانت بھی ٹوٹ گئے۔
کمیشن نے تین ایسے واقعات کی بھی تفتیش کی ہے جن میں یوکرین کے حکام نے روس کے ساتھ تعاون کے الزام کا سامنا کرنے والے افراد کے انسانی حقوق کو پامال کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرین کے ذہنوں پر ایسے صدمات کے شدید اور طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بچوں کی غیرقانونی ملک بدری
تحقیقاتی کمیشن نے یوکرین میں روس کے زیرقبضہ علاقوں سے مقامی بچوں کو روس منتقل کیے جانے کے واقعات کی بھی تحقیقات کی ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مئی 2022 میں 31 بچوں کی روس منتقلی غیرقانونی ملک بدری اور اس طرح جنگ جرم کے ارتکاب کے مترادف تھی۔
کمیشن کے ارکان نے متاثرین کے حقوق کے مکمل احترام اور تحففظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان واقعات کے ذمہ داروں کے محاسبے کی اہمیت کو واضح کیا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین پر روس کا بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی کے لیے مارچ 2022 میں آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ رواں سال اپریل میں اس مشن کی ذمہ داریوں میں مزید ایک سال کی توسیع کی گئی۔
یہ کمیشن تین ارکان پر مشتمل ہے جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہیں اور بلامعاوضہ کام کرتے ہیں۔