انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اے آئی شعبہ صحت کے لیے سودمند لیکن قوانین کے تابع لانے کی ضرورت

مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کے حوالے سے پرائیوسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
© Unsplash/Steve Johnson
مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کے حوالے سے پرائیوسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اے آئی شعبہ صحت کے لیے سودمند لیکن قوانین کے تابع لانے کی ضرورت

معاشی ترقی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت سے کام لینے اور اس کے ممکنہ غلط مقاصد کی روک تھام کے لیے بہتر ضوابط وضع کرنا ہوں گے۔

'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی بیماریوں کی تشخیص اور علاج معالجے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے تاہم طبی معلومات اور اعدادوشمار کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کےنظام ممکنہ طور پر حساس نجی معلومات تک رسائی بھی پا سکتے ہیں۔

Tweet URL

انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے معاملے میں اخفا، سلامتی اور دیانت کو تحفظ دینے کے لیے موثر قانونی اور انضباطی نظام کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ 

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور موثر نظام قائم کرنے اور اسے ایک مثبت ذریعے کے طور پر استعمال میں لانے کے بارے میں بات چیت کے فروغ اور اس سلسلے میں ٹیکنالوجی کے نظام وضع کرنے، ان کی نگرانی اور اس کی صنعتی پیمانے پر تیاری سے وابستہ لوگوں، طبی کارکنوں اور مریضوں کو اکٹھا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ طبی معلومات کی دستیابی میں اضافے اور تجزیاتی تکنیک میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے اسے مصنوعی ذہانت کے فوائد کا اندازہ ہے، جو طبی تجربات اور طبی تشخیص کو بہتر بنانے اور طبی پیشہ ور افراد کے علم اور صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعے بہتر علاج معالجے میں مدد دے سکتی ہے۔ 

سنگین مسائل 

ڈبلیو ایچ او مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی ٹیکنالوجی کے تیزتر عروج کو ذمہ دارانہ طریقے سے سنبھالنے کے لیے شفافیت، دستاویزکاری، خدشات پر قابو پانے اور معلومات کی خارجی نگرانی کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت صحت کے لیے بہت بڑے فوائد کی حامل ہو سکتی ہے تاہم اس سے سنگین نوعیت کے مسائل بھی لاحق ہو سکتے ہیں جن میں غیراخلاقی طور سے معلومات اکٹھی کرنا، سائبر سکیورٹی کے خدشات اور جانبدارانہ یا غلط اطلاعات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 

ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس حوالے سے ادارے کی جاری کردہ نئی رہنمائی سے ممالک کو مصنوعی ذہانت کو باضابطہ بنانے اور اس سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے کینسر کے علاج سے لے کر تپ دق کی تشخیص تک طبی شعبے میں بہت سے کام لینے میں مدد ملے گی۔ 

پیچیدہ ضابطے 

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام پیچیدہ ہیں اور ان کا انحصار اپنے تعمیری کوڈ پر ہی نہیں بلکہ ان معلومات پر بھی ہوتا ہے جن کی انہیں تربیت دی گئی ہوتی ہے۔ بہتر ضابطہ کاری کی بدولت ان کے تربیتی مواد میں غلط نتائج کے خدشات سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

اس معاملے میں اہم اور پیچیدہ ضابطوں کے باعث درپیش مسائل (جیسا کہ یورپ میں 'جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) اور امریکہ میں 'ہیلتھ انشورنس پورٹیبیلیٹی اینڈ اکاؤنٹیبیلیٹی ایکٹ (ایچ آئی پی اے اے) پر اخفا اور معلومات کے تحفظ کے سلسلے میں دائرہ کار اور رضامندی سے متعلق تقاضوں کو سمجھتے ہوئے قابو پایا گیا ہے۔ 

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے متنوع لوگوں کی درست نمائندگی کرنا مشکل ہو گا جس کے نتیجے میں جانبدارانہ نتائج، غلطیوں اور ناکامیوں کا سامنا ہو سکتا ہے

ان خدشات میں کمی لانے کے ضوابط وضع کر کے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو صنف، نسل اور قومیت جیسی پہچان کا اندازہ ہو اور اسے فراہم کی جانے والی معلومات ہر طرح کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہوں۔ 

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کو ایسی معیاری معلومات کی فراہمی کا عزم کیا جانا ضروری ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصںوعی ذہانت کے نظام جانبداری اور اغلاط کو بڑھاوا نہ دیں۔