انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ تنازعے میں پھنسے لوگوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بحرانوں کے دوران اقوام متحدہ پس پردہ کیسے کام کرتا ہے؟

© UNRWA
اقوام متحدہ تنازعے میں پھنسے لوگوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بحرانوں کے دوران اقوام متحدہ پس پردہ کیسے کام کرتا ہے؟

اقوام متحدہ کے امور

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین حالیہ دنوں تشدد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور مکمل جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسے بحرانوں میں اقوام متحدہ سیاسی اور امدادی محاذوں پر نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

عموماً ایسے حالات میں ادارے کے امدادی کردار کو بہت توجہ ملتی ہے کیونکہ دوران جنگ شہریوں کو امداد پہنچانے اور انہیں تحفظ دینے کے علاوہ بین الاقوامی انسانی قانون (جنہیں جنگ کے قوانین بھی کہا جاتا ہے اور جینیوا معاہدوں میں ان کا تفصیلی تذکرہ ہے) پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے معاہدے کیے جاتے ہیں جن میں اقوام متحدہ کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ 

تاہم ان مواقع پر اقوام متحدہ کے سیاسی کردار کا تذکرہ کم ہی سننے کو ملتا ہے کیونکہ عام طور پر یہ کام سب کے سامنے نہیں بلکہ پس پردہ انجام پاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ثالثی اور تنازعات کے حل کے لیے فریم ورک بنانے کے متعدد اقدامات کا تذکرہ ہے اور اس میں سیکرٹری جنرل کو تناؤ اور کشیدگی میں کمی لانے اور جنگ سے بچنے کے اقدامات اٹھانے کے لیے معاہدے کروانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 98 اور 99 میں سیکرٹری جنرل کے کردار اور اس کے ساتویں اور آٹھویں باب میں تنازعات کے پرامن حل کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ 

پس پردہ ہونے والی ایسی بیشتر سفارتکاری کبھی سامنے نہیں آتی تاہم بحرانوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش میں اس کی خاص اہمیت ہے اور اس حوالے سے اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ اقوام متحدہ اپنا یہ اختیار کیسے استعمال کرتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کا امن کے لیے ثالثی میں واضح طور پر ایک منفرد عالمی کردار ہے۔ 1945 میں اپنے قیام کے بعد سے اقوام متحدہ نے بے شمار مواقع پر جنگ بندی، امن معاہدوں اور دوران جنگ امدادی راہداریاں قائم کرنے اور دیگر اہتمام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کا اقدام بھی ایسا ہی ایک کام ہے جس کی بدولت یوکرین کی بندرگاہوں سے خوراک اور کھادوں کی تجارتی بنیادوں پر ترسیل میں سہولت ملی۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ مصر اور وہاں صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کا اعلان غزہ۔اسرائیل تنازع سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی چوبیس گھنٹے جاری کوششوں میں تازہ ترین اضافہ ہے۔ ادارہ ہمسایہ ملک لبنان اور شام میں اس تنازع کے ثانوی اثرات کو روکنے اور زیرمحاصرہ فلسطینیوں کو تحفظ زندگی میں مدد پہنچانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ 

یہ دورہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اس خطے کے اہم رہنماؤں کے مابین رات کے وقت ٹیلی فون پر ہونے والی متواتر بات چیت، اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ آئندہ دنوں ہونے والی ملاقات کے اہتمام اور غزہ کے حکام کے ساتھ ممکنہ روابط سے متعلق کوششوں کے بعد ہو رہا ہے۔ 

7 اکتوبر کو یہ تنازع شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے اقدامات کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:

مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ٹور وینزلینڈ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کے سربراہ فلپ لازرینی مصر کے وزیر خارجہ سامع حسن شکری کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے۔
Egypt MFA Spokesperson
مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ٹور وینزلینڈ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کے سربراہ فلپ لازرینی مصر کے وزیر خارجہ سامع حسن شکری کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے۔

حماس کے حملے: اقوام متحدہ کے کشیدگی میں کمی کے مطالبات 

اسرائیل میں حماس کے حملوں سے چند ہی گھنٹوں کے بعد اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی حکام نے خطے کے اہم رہنماؤں سے بات کی اور فریقین پر بحران میں کمی لانے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کو تحفظ دینے پر زور دیا۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے یروشلم میں اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے تشدد کی کڑی مذمت کی اور شہریوں کو نشانہ بنانے بشمول اسرائیلیوں کے اغوا اور غزہ پر فضائی حملوں کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے۔ اقوام متحدہ کے دیگر حکام اور اس کے اداروں کے سربراہ زمینی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے انہی مطالبات کو دہراتے رہے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطے بھی جاری ہیں۔ غزہ کے موجودہ حکام کے ساتھ رابطے بھی کیے جائیں گے کیونکہ وہاں انہی کی عملداری ہے اور یہ کوئی مشروط معاملہ نہیں اور ان تمام چیزوں کو ہونا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، اور روس پر مشتمل چار رکنی کمیٹی کا اجلاس (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Evan Schneider
مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، اور روس پر مشتمل چار رکنی کمیٹی کا اجلاس (فائل فوٹو)۔

تمام فریقین سے روابط 

ٹور وینزلینڈ نے تمام فریقین اور اہم کرداروں تک براہ رسائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت کے چار فریقی طریقہ کار میں شامل ارکان سے بھی قریبی رابطہ کیا۔ ان میں یورپی یونین، روس، امریکہ اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔ یہ طریقہ کار 2002 میں طے پایا تھا جس کا مقصد مسئلے کے دو ریاستی حل کو مدنظر رکھتے ہوئے امن عمل کو آگے بڑھانا ہے تاکہ اسرائیل اور فلسطین پُرامن طور سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔ 

ٹور وینزلینڈ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہےکہ شہریوں کی زندگی کے مزید نقصان سے بچنا اور غزہ کی پٹی میں اشد ضرورت کی امداد پہنچانا ترجیح ہے۔ اقوام متحدہ ان کوششوں کو آگے بڑھانےکے لیے فریقین سے فعال طور پر رابطے میں ہے۔ 

خصوصی رابطہ کار موجودہ صورتحال سے کہیں پہلے سے خطے میں فریقین اور دیگر اہم کرداروں سے رابطے میں ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ماہانہ بنیادوں پر تازہ ترین حالات سے آگاہ کرتے چلے آئے ہیں۔ 27 ستمبر کو انہوں نے کونسل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی آباد کاری کے تناظر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ 

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں سے فوری بعد وہ ایک مرتبہ پھر فریقین اور ہمسایہ ملک مصر اور لبنان کے رہنماؤں سے ملے۔

مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ٹور وینزلینڈ اس سال اگست میں سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ٹور وینزلینڈ اس سال اگست میں سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

امدادی راہداریوں کے قیام کی کوششیں 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ مصر کے علاوہ غزہ کے لیے امدادی راہداری یا امداد پہنچانے کے لیے محفوظ راستے بنانے کے لیے دیگر رابطے بھی جاری ہیں۔ 

گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل نے مصر کے صدر سے ملاقات کی۔ 

اس کے علاوہ وینزلینڈ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے کمشنر جنرل کی مصر کے وزیر خارجہ سمیع حسن شکری سالم سے 'مفید ملاقات' بھی ہوئی۔ 

تشدد میں کمی لانے کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے وینزلینڈ یورپی یونین (ای یو)، قطر اور امریکہ کے حکام سے بھی قریبی رابطے میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن سپاہی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل اور شام کے درمیان سرحد پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے۔
© UNDOF
اقوام متحدہ کے امن سپاہی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل اور شام کے درمیان سرحد پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے۔

دس ہزار امن اہلکار مصروف عمل 

اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کے امن اہلکار موجود نہیں ہیں تاہم اسرائیل کی سرحد کے متوازی تعینات کیے گئے 10 ہزار سے زیادہ اہلکاروں نے رواں ہفتے سرحدی علاقوں میں راکٹ حملوں اور توپخانے کی گولہ باری کے بعد کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ 

قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے ہر دیگر مشن کی طرح لبنان میں اس کے مشن 'یونیفیل' اور شام میں 'یو این ڈی او ایف' سلامتی کونسل کی جانب سے دی گئی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان دونوں کو ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے متعلقہ معاہدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ مشن میں شامل اہلکار اسرائیل اور لبنان کی سرحد بلیو لائن سے لے کر گولان کی متنازع پہاڑیوں میں ماؤنٹ ہرمون کے علاقوں تک نگرانی کرتے ہیں۔ 

اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی میں اضافے کے بعد 'یونیفیل' دونوں ممالک کے ساتھ متواتر رابطے میں ہے۔ 

اسے علاقے میں استحکام برقرار رکھنے اور شہریوں کو تحفظ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یونیفیل کے اہلکاروں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور وہ مخصوص حالات میں متناسب طور سے اور بتدریج طاقت کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ 

یہ یقینی بنانا بھی اس کے کام کا حصہ ہے کہ یہ علاقہ ایک دوسرے کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس کے علاوہ 'یونیفیل' اپنے فرائض کی انجام دہی کی راہ میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کے خلاف مزاحمت کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں، سہولیات، تنصیبات اور سازوسامان کا تحفظ کرنا، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور امدادی کارکنوں کی سلامتی اور ان کی نقل و حرکت یقینی بنانا اور شہریوں کو تشدد کے متوقع خطرے سے محفوظ رکھنا بھی اس کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس۔
UN Photo/Eskinder Debebe
فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی کوششیں 

اسی دوران اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اجتماعی اقدامات کیے ہیں۔ 8 ستمبر کو سلامتی کونسل کے بند کمرہ ہنگامی اجلاس کے بعد 15 رکنی ادارے نے اس ہفتے ایک قرارداد کے مسودے پر غور کیا اور ہنگامی توجہ کے متقاضی معاملات پر اس کی بات چیت جاری ہے۔ 

کونسل کے پاس ممالک کو امن کے لیے بات چیت کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت یہ خطرے کے حامل مخصوص حالات میں اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت بھی دے سکتی ہے۔ 

اگر کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو 193 رکن ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اپنا ہنگامی خصوصی اجلاس بلا سکتی ہے جیسا کہ اس نے 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے چھ روز کے بعد کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش گیارہ اکتوبر کو صحافیوں کو غزہ کی صورتحال بارے آگاہ کر رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش گیارہ اکتوبر کو صحافیوں کو غزہ کی صورتحال بارے آگاہ کر رہے ہیں۔

ثالثِ امن: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ 

دنیا کے سفارت کارِ اعلیٰ کی حیثیت سے عالمی برادری کو تنازعات کے حل کے لیے اکٹھا کرنے کا اہم کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے نمائندے دوطرفہ سفارت کاری، تنازعات کے فریقین کے ساتھ ملاقاتوں یا انہیں ایک جگہ جمع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ مسائل کا فوری یا طویل مدتی حل ڈھونڈا جا سکے جس میں جنگ بندی اور غیرمحفوظ آبادیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔ 

بحرانوں کے دوران سیکرٹری جنرل ادارے کے سیاسی اور قیام امن کے امور سے متعلق شعبے کی مدد سے اقوام متحدہ کے اداروں کو قیادت اور رہنمائی مہیا کرتے ہیں تاکہ فوری اور موثر اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔ 

سیکرٹری جنرل اور ان کے نمائندے ذرائع ابلاغ کے ساتھ براہ راست بات چیت یا آن لائن بیانات کے ذریعے لوگوں کو تازہ ترین پیش ہائے رفت سے باقاعدہ آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کو جس سے بات کرنا ہو گی کریں گے اور گزشتہ ہفتے انہوں نے اسرائیل اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان (چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ) کے سفیروں اور قطر کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ 

اس کے علاوہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے احکامات پر 11 لاکھ افراد کی جنوب کی جانب نقل مکانی کو روکنے کے لیے ہنگامی اپیل بھی جاری کی ہے۔ 

ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل متواتر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ تمام فریقین اور ان پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اس المیے کا خاتمہ کریں۔