افغانستان میں زلزلوں نے پہلے سے موجود انسانی بحران مزید بڑھا دیا
عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے افغانستان میں حالیہ زلزلوں سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد مہیا کرنے کے لیے 19 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
افغانستان کے مغربی علاقے میں گزشتہ دنوں پے در پے آنے والے زلزلوں سے متاثرہ تقریباً ایک لاکھ بھوکے اور بے گھر لوگوں کے لیے ہنگامی بنیاد پر مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے جبکہ ملک کو پہلے ہی وسیع تر انسانی بحران کا سامنا ہے جس سے نمٹنےکے لیے بہت کم وسائل دستیاب ہیں۔
افغانستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی نائب ڈائریکٹر ماریا صالوہانا نے بتایا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے ادارے کو افغانستان کے لیے امدادی پروگرام سے خوراک لینا پڑ رہی ہے جس کے لیے مالی وسائل پہلے ہی بہت کم ہیں۔
یکسر محتاجی
رواں سال کے آغاز میں ڈبلیو ایف پی کو مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث افغانستان میں ایک کروڑ لوگوں کی غذائی امداد میں کٹوتی کرنا پڑی تھی۔
ادارہ اس وقت ملک میں ایسے صرف بیس فیصد لوگوں کی مدد ہی کر سکتا ہے جنہیں اپنی بقا کے لیے غذائی امداد درکار ہوتی ہے۔
ماریا صالوہانا نے کہا کہ شدید زلزلوں جیسی آفات سے ان لوگوں کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں جن کے لیے خوراک کا حصول پہلے ہی بہت مشکل تھا اور اب وہ یکسر محتاجی کا شکار ہیں۔
چار سو ملین ڈالر درکار
'ڈبلیو ایف پی' نے مزید بتایا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی مدد کے علاوہ اسے سردیوں کی آمد سے پہلے افغان لوگوں کے لیے خوراک کا انتظام کرنے کی غرض سے 400 ملین ڈالر درکار ہیں۔
موسم سرما میں ملک کے بہت سے علاقوں میں برف باری اور پہاڑی تودے گرنے کے باعث لوگ دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ جاتے ہیں اور جنہیں خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔