معاشی ڈھانچے میں بہتری لاتے ہوئے ماحول کو مت بھولیں: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ معاشی ترقی، اچھے روزگار کی تخلیق، توانائی کے نظام میں تبدیلی لانے اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بنیادی ڈھانچے کی خاص اہمیت ہے اور اس شعبے میں درپیش مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچہ لوگوں کی روزمرہ زندگی اور معیشتوں کی بنیاد ہے تاہم ترقی پذیر دنیا میں اربوں لوگوں کو اب بھی پانی، نکاسی آب، بجلی، سکولوں، ہسپتالوں اور جدید سڑکوں، پُلوں، سرنگوں اور بندرگاہوں جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
سیکرٹری جنرل چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام پر بیجنگ میں ہونے والے تیسرے بین الاقوامی فورم سے خطاب کر رہے تھے۔ اس اقدام کے تحت گزشتہ دہائی میں بہت سے ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل مہیا کرنے کے علاوہ سڑکوں، بجلی کے پلانٹ، پُلوں، بندرگاہوں اور دیگر سہولیات کی تعمیر میں مدد دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایسے وقت میں بنیادی ڈھانچے کا بحران درپیش ہے جب لوگوں کو رہن سہن کے اخراجات میں اضافے، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے اور پائیدار ترقی و موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی جانب پیش رفت ضائع ہونے کو ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ اقدام شہروں، معاشروں اور نقل و حمل و بجلی کے نظام کو جدید اور ماحول دوست بنانے کا تاریخی موقع ہے جس سے دو عملی شعبوں میں قابل قدر کام کیا جا سکتا ہے۔
معاشی استحکام میں معاونت
سیکرٹری جنرل نے پہلے شعبے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا جو عالمی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات، قرضوں میں سہولت کے موثر طریقہ ہائے کار کے فروغ اور پائیدر ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے 500 ارب ڈالر کی فراہمی کی منصوبے میں تعاون کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں معاشی استحکام کے فروغ سے متعلق ہے۔ گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایس ڈی جی کانفرنس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں نے ان اقدامات کی مںظوری دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت دنیا بھر میں 3,000 سے زیادہ منصوبوں کے لیے ایک ٹریلین ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کی جا رہی ہےاور ترقی پذیر ممالک کے تناظر سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت ناقابل تردید ہے۔
ماحولیاتی استحکام پر سرمایہ کاری
انتونیو گوتیرش نے بتایا کہ دوسرے شعبے کا تعلق ماحولیاتی استحکام کے فروغ کے اقدامات سے ہے جن کے لیے ایسی سرمایہ کاری درکار ہو گی جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف استحکام اور اس کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات کو قومی اور مقامی سطح پر کی جانے والی منصوبہ بندی میں شامل کرنے اور عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے میں مددگار ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام ایسی اہم سرمایہ کاری کو حقیقت کا روپ دینے کا اہم ذریعہ ہے۔
ماحول دوست شاہراہ ریشم
ماحول دوست شاہراہ ریشم کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی فورم میں بات کرتے ہوئے انہوں نے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان منصوبوں سے ممالک کو اس ماحول دوست اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کے حصول میں مدد ملے جو انہیں اپنے لوگوں اور ماحولیاتی نظام کی بہتری کے لیے درکار ہے اور وہ ایسے ناکام ترقیاتی نمونوں سے چھٹکارا پائیں جو ہمیں معدنی ایندھن پر انحصار کے لیے مجبور کیے رکھتے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد بیلٹ اینڈ روڈ پر کی جانے والی سرمایہ کاری کو فطرت سے ہم آہنگ رکھنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس حجم، تعداد اور وسعت کے اقدامات سے معیشت، توانائی کے نظام، نقل و حمل، عمارات اور پوری کی پوری صنعتوں کا منظرنامہ تبدیل ہو جائے گا اور اسے اس انداز میں انجام پانا چاہیے جس سے آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے میں مدد ملے۔
اس حوالے سے بھی انہوں ںے ایسے دو شعبوں کا تذکرہ کیا جہاں سرمایہ کاری سے پائیدار ترقی کے حصول کی کوششوں اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماحول دوست توانائی سب کے لیے
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعتوں کو اپنے منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے فطری ماحول پر اپنے اقدامات کے اثرات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ دنیا کو ایسی عمارتیں اور پانی و بجلی کے ایسے نظام درکار ہیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں اور آفات کے اثرات کو کامیابی سے سہتے ہوئے لوگوں کے کام آتے رہیں۔
انہوں نے نقل و حمل اور شہروں میں بجلی کے نظام کو ماحول دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ توانائی کے ایسے نظام سبھی کے لیے سستی بجلی مہیا کرتے ہوئے نہ تو ماحول کو آلودہ کریں گے اور نہ ہی حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچائیں گے۔
معدنی ایندھن ترک کریں
سیکرٹری جنرل نے دوسرے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں نئی سرمایہ کاری کی بدولت معدنی ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب منصفانہ اور پائیدار منتقلی کی رفتار میں تیزی آنی چاہیے۔ اس حوالے سے انہوں ںے موسمیاتی یکجہتی کے معاہدے کی اپنی تجویز کا تذکرہ کیا جس کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے بڑے ممالک کو ان کی مقدار میں کمی لانا ہو گی۔
اسی طرح پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت تیز کرنے کے لیے ان کے ایجنڈے میں تمام حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے اقدامات میں تیزی لائیں۔
انتونیو گوتیرش نے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اقدامات میں مدد دینے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے 100 ارب ڈالر مہیا کرنے، 2025 تک موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات کے لیے فراہم کیے جانے والے مالی وسائل میں اضافہ کرنے اور آئندہ ماہ دبئی میں کاپ 28 موسمیاتی کانفرنس میں نقصان اور تباہی سے بچاؤ کے فنڈ کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں ںے تیل و گیس کے نئے منصوبوں کے اجازت نامے بند کرنے، معدنی ایندھن پر امدادی قیمتوں میں کمی لانے اور 2040 تک کوئلے کا استعمال ترک کرنے کے لیے اپنی اپیل بھی دہرائی۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کے لیے ماحول دوست اور سستی توانائی کی فراہمی اور نیٹ زیرو ہدف کے حصول کی جانب سفر میں ماحول دوست شاہراہ ریشم کا منصوبہ قابل تجدید توانائی کی جانب تیز رفتار، منصفانہ اور مساوی منتقلی کے عمل کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔