چین شمالی کوریا کے ’پناہ گزینوں‘ کو جبراً واپس نہ بھیجے، ماہرین
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ ماہرین نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا سے بھاگ کر آنے والے لوگوں کو جبراً واپس بھیجنے سے گریز کرے کیونکہ ایسے بعض لوگوں کو اپنے ملک میں جان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے ایسی مصدقہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ شمالی کوریا میں واپس بھیجے جانے والے لوگوں کو تشدد یا ظالمانہ، غیرانسانی و توہین آمیز سلوک اور سزاؤں کی صورت میں اپنے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ شمالی کوریا سے فرار ہونے والے سیکڑوں لوگوں کو انسانی حقوق کے متعدد بین الاقوامی اداروں کی متواتر اپیل کے باوجود چین سے واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں بڑی اکثریت خواتین کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چین کے حراستی مراکز میں شمالی کوریا کے ایسے مزید سیکڑوں لوگ قید ہیں جنہیں متوقع طور پر اپنے ملک میں واپسی پر انسانی حقوق کی پامالیوں یا جان کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
'مجرم' اور 'غدار'
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کو ایسے ملک نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے تشدد، ظالمانہ، غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک یا سزاؤں یا ناقابل تلافی نقصان بشمول موت کی سزا یا جبری گمشدگی کا خطرہ ہو۔
شمالی کوریا کی حکومت غیرقانونی طور پر اپنی سرحد عبور کر کے بیرون ملک جانے والوں کو 'مجرم' قرار دیتی ہے اور اگر یہ ثابت ہو کہ ایسے لوگ جمہوریہ کوریا کی جانب فرار ہونا چاہتے تھے تو انہیں 'غدار' کہا جاتا ہے۔ 'غداروں' کو جائز قانونی کارروائی کے بغیر قید سمیت کڑی سزائیں دی جاتی ہیں اور انہیں جبری گمشدگی حتیٰ کہ موت کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ
ماہرین نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کو جبراً ایسے ملک واپس نہ بھیجنے کے اصول کا احترام کرے جہاں انہیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ اصول مہاجرت کی حیثیت سے قطع نظر ہر وقت اور ہر فرد پر لاگو ہوتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ یہ اصول انسانی حقوق، پناہ گزینوں کے قانون، انسانی اور رسمی قانون کا بھی حصہ ہے اور تشدد و دیگر طالمانہ، غیرانسانی و توہین آمیز سلوک یا سزا اور پناہ گزینوں سے متعلق 1951 کے قانون اور اس ضابطے میں بھی شامل ہے جس میں چین بھی فریق ہے۔
انہوں نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ، امدادی اداروں اور سفارتوں کو جتنا جلد ہو سکے ملک میں رسائی دے اور اپنے ہاں حقوق کی صورتحال کے جائزے کے لیے انسانی حقوق کونسل کے متعلقہ خصوصی طریقہ ہائے کار میں شمولیت اختیار کرے۔
ماہرین نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی سرحد دوبارہ کھولے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے چاہیے کہ وہ ملک واپس آنے والے تمام شہریوں کے حوالےسے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تعمیل کرے۔ ان میں تشدد، جبری گمشدگیوں اور ناجائز حراستوں کی مکمل ممانعت اور منصفانہ قانونی کارروائی کی ضمانت دینا بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین
یہ بیان جاری کرنے والے 18 ماہرین کا تقرر اقوام میں متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کیا ہے۔ ان میں شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں خصوصی اطلاع کار الزبتھ سالمن بھی شامل ہیں۔
یہ ماہرین کونسل کے خصوصہ طریقہ ہائے کار کا حصہ ہیں جو حقائق کا کھوج لگانے اور حقوق سے متعلق نگرانی کے لیے اس کے غیرجانبدارانہ طریقے کا عمومی نام ہے۔ ماہرین کسی ملک میں یا دنیا بھر میں حقوق کے بارے میں مخصوص حالات کی نگرانی کرتے اور اپنی رپورٹ دیتے ہیں۔
یہ ماہرین کسی حکومت یا ادارے کا حصہ ہونے کے بجائے رضاکارانہ بنیادوں پر انفرادی حیثیت میں کام کرتے ہیں۔