انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل اور حماس شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام: تحقیقاتی کمیشن

اسرائیلی بمباری کے بعد شمالی غزہ کے علاقہ الرمل میں تباہی کا منظر۔
© UNICEF/Hassan Islyeh
اسرائیلی بمباری کے بعد شمالی غزہ کے علاقہ الرمل میں تباہی کا منظر۔

اسرائیل اور حماس شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام: تحقیقاتی کمیشن

انسانی حقوق

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے غیرجانبدار کمیشن نے کہا ہے کہ متحارب فریقین شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے موثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں کام کرنے والا کمیشن 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کی شہادتیں جمع کر رہا ہے۔

کمیشن نے حماس کی جانب سے دہشت گردی کے اقدامات اور جواباً اسرائیل کی غزہ پر انتقامی بمباری سے قبل لیا جانے والا اپنا جائزہ بھی مکمل کر لیا ہے جس میں فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

تشدد میں اضافہ

تحقیقاتی کمیشن نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مئی اور اگست 2021 کے درمیانی عرصہ کے حالات کی رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں فریقین کی جانب سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹ کی تیاری کے لیے کمیشن نے اسرائیل اور غزہ کے حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال اور اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور اسرائیل میں کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔

اس کا کہنا کہ موجودہ حالات میں اس دیرینہ بحران، تقسیم اور طرفین میں پائی جانے والی نفرت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

نوی پلائی نے کہا کہ علاقے میں 7 اکتوبر سے جو کچھ دیکھنے میں آیا ہے اس سے کمیشن کی رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پر عملدرآمد کی ہنگامی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
UN Photo / Violaine Martin
نوی پلائی نے کہا کہ علاقے میں 7 اکتوبر سے جو کچھ دیکھنے میں آیا ہے اس سے کمیشن کی رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پر عملدرآمد کی ہنگامی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

بنیادی وجوہات سے نمٹا ضروری

کمیشن کی سربراہ نوی پلائی نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ درد ناک اور بروقت ہے۔ اس میں زور دیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے اور اسرائیل میں بین الاقوامی قانون پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہی تشدد کے خاتمے اور پائیدار امن کے حصول کا واحد طریقہ ہے۔ 

تاہم اس مقصد کے لیے فسلطینی علاقے پر جاری قبضے سمیت اس تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا اور فلسطینیوں کو حق خود اختیاری دینا ہو گا۔

پلائی نے کہا کہ علاقے میں 7 اکتوبر سے جو کچھ دیکھنے میں آیا ہے اس سے کمیشن کی رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پر عملدرآمد کی ہنگامی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

شہریوں اور شہری تنصیبات کا ہر طرح کے حالات میں تحفظ ہونا چاہیے۔ یہ جائز اہداف نہیں ہیں۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ان کی حفاظت کا اپنا فریضہ پورا کریں۔