افغانستان میں زلزلوں نے مصیبتوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا
اتوار کو افغانستان کے مغربی علاقے میں آنے والے ایک اور زلزلے نے پہلے ہی اس قدرتی آفت کے دو بڑے دھچکوں سے متاثرہ لوگوں کی تکالیف میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے جنہیں آنے والی سخت سردی میں بقا کے خطرے کا سامنا ہے۔
تازہ ترین زلزلہ ہرات شہر کے شمال مشرق میں صبح کے وقت آیا جس کی کم از کم شدت 6.3 تھی۔ ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر او سی ایچ اے (اوچا) کے مطابق اب تک اس زلزلے میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام رابطہ کار ڈینیئل پیٹر اینڈرز نے کہا ہے کہ امدادی اداروں کے لیے موسم سرما کی آمد سے قبل متاثرین کو تحفظ زندگی کے لیے درکار امداد پہنچانے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ متاثرین کے پاس چند روز میں کئی مرتبہ آنے والے زلزلوں سے بچاؤ کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ سردیوں میں ان لوگوں کے پاس خوراک کے محدود ذرائع ہوتے ہیں جب رات کے وقت درجہ حرارت انتہائی حد تک گر جاتا ہے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ زلزلوں سے متاثرہ افراد کا شمار افغانستان کے انتہائی بدحال لوگوں میں ہوتا ہے جو دہائیوں سے جنگوں اور پسماندگی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
ہرات اور گردونواح میں پچھلے دس روز میں آنے والے زلزلوں میں مجموعی طور پر 1,500 افراد ہلاک اور 2,000 زخمی ہو چکے ہیں۔ جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے وہ اس ڈر سے کھلے آسمان تلے پڑے ہیں کہ کہیں ان کی رہائش گاہیں مکمل طور پر ہی تباہ نہ ہو جائیں۔
ابتدائی امدادی منصوبہ
افغانستان میں امدادی برادری نے ابتدائی طور پر 114,000 لوگوں کی بحالی میں مدد دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس منصوبے پر حسب ضرورت نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
ڈینیئل اینڈرز نے کہا مقامی لوگ اور امدادی ادارے ضرورت مندوں کو خوراک اور غیرغذائی امداد جیسا کہ خیمے، کمبل اور حرارت کے حصول کا سامان مہیا کر رہے ہیں تاہم ان کے لیے مزید مدد درکار ہے۔ بحران سے نمٹنے کے اقدامات افغانستان کے لیے 2023 کے امدادی منصوبے کا حصہ ہوں گے جس کے لیے اب تک اکٹھے ہونے والے امدادی وسائل پہلے ہی بہت کم ہیں۔
افغانستان میہں اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ترجمان فلپ کروف نے گزشتہ ہفتے آنے والے پہلے زلزلے کے بعد متاثرہ دیہات کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے خوراک کا حصول پہلے ہی مشکل تھا اور آنے والا ہر بحران انہیں مزید مفلس کر دیتا ہے۔
متواتر چالیس سال تک جنگوں، انتہائی درجے کے غذائی عدم تحفظ اور پانچ سالہ خشک سالی یا اس سے مشابہ حالات اور دو سالہ معاشی گراوٹ اور اس کے نتیجے میں روزگار کے نقصان نے ان لوگوں کو انتہائی بدحال کر دیا ہے۔
زلزلوں سے نقصانات
اوچا کے مطابق زلزلوں اور ان کے ثانوی جھٹکوں سے تقریباً 43,000 لوگ (7,165 خاندان) براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
اب تک 3,300 سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 2,100 کو شدید اور 1,700 کو درمیانے درجے کا نقصان پہنچا ہے۔
متاثرہ علاقے میں تعمیراتی ڈھانچے کے نقصان اور لوگوں کو پہنچنے والی چوٹوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کون سی عمارت قابل استعمال ہے اور کون سے زخمیوں کو علاج کے بعد گھر بھیجا جا سکتا ہے۔