انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے یو این کی اپیل

مغربی افغانستان میں آنے والے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
© WFP
مغربی افغانستان میں آنے والے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

افغانستان: زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے یو این کی اپیل

انسانی امداد

اقوام متحدہ نے افغانستان کے مغربی علاقے میں تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ ہزاروں افراد کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے جن میں 90 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اس علاقے میں گزشتہ ہفتے کے روز دو بڑے زلزلے آئے جس کے بعد کئی ثانوی جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ بعد ازاں بدھ کو ایک اور بڑا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں وہ گھر بھی منہدم ہو گئے جو پہلے بڑے زلزلوں میں بچ رہے تھے۔

Tweet URL

ابھی اس تباہی سے ہونے والے نقصان کا پوری طرح اندازہ بھی نہیں لگایا گیا تھا کہ جمعرات کو بہت سے متاثرہ دیہات میں آنے والے گرد کے طوفان نے سیکڑوں خیموں کو تباہ کر دیا۔ ان میں بہت سے خیمے غازی گڑھ کے عبوری مرکز میں لگائے گئے تھے جن میں متعدد بے گھر خاندانوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر کے مطابق طوفان کے بعد متاثرہ خاندانوں کو مرکز سے ہرات شہر کے ایک سکول میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں خوراک اور غیرغذائی امدادی اشیا مہیا کی جائیں گی۔ 

امداد کی اپیل

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے جمعے کو 14.4 ملین ڈالر کے امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل جای کی ہے۔ اس امداد سے سردیوں کی آمد کے موقع پر ان لوگوں کو پناہ کے حصول، حرارت کے انتظام اور گرم کپڑوں کی فراہمی میں مدد دی جائے گی جو اس وقت کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بھی اس ہفتے کے آغاز میں 20 ملین ڈالر امداد مہیا کرنے کی ایک ابتدائی اپیل جاری کی ہے جس کا مقصد نومولود اور دیگر بچوں کو ہنگامی طبی امداد اور چوٹوں کا علاج فراہم کرنا، سکولوں اور طبی مراکز کی مرمت اور بچوں اور خاندانوں کو نفسیاتی اور ذہنی طبی معاونت مہیا کرنا ہے۔

'یو این ایچ سی آر'  متاثرین کو قانونی مدد اور رہنمائی بھی مہیا کرے گا جس میں اہم دستاویزات کی تلاش اور ان سے کام لینے کے لیے دی جانے والی مدد بھی شامل ہے تاکہ گھرانے بشمول پناہ گزین اور اپنے علاقوں میں واپس آنے والے بے گھر افراد اپنے شہری حقوق سے کام لے سکیں۔ 

افغانستان میں یونیسف کی قائم مقام نمائندہ روشنان مرتضٰی کا کہنا ہے کہ خطے کے لوگ پہلے ہی سالہا سال کی جنگ، عدم تحفظ اور موسمیاتی عوامل کے باعث آنے والی آفات کے اثرات جھیل رہے ہیں۔ اب یہ محرومیاں اکٹھی ہو گئی ہیں اور انہوں نے افغان بچوں کے لیے ایسی ہنگامی صورتحال کھڑی کر دی ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ 

انہوں نے کہا کہ یونیسف اور اس کے شراکت دار اس آفت کے پہلے دن سے ہی بچوں کی زندگی بچانے میں مدد دے رہے ہیں لیکن انہیں طبی نگہداشت، تحفظ اور صاف پانی مہیا کرنے کے لیے مزید تعاون درکار ہے۔ 

ضروریات اور اقدامات 

'او سی ایچ اے' کے مطابق طبی سہولیات کو ہونے والا نقصان خاص طور پر باعث تشویش ہے کہ 580,000 سے زیادہ لوگ طبی مدد سے محروم ہو گئے ہیں۔ بہت سے سکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جو اب فعال نہیں رہے۔ 

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے ہزاروں متاثرہ لوگوں کو 95 ٹن سے زیادہ خوراک اور غذائی اشیا مہیا کی ہیں جبکہ یونیسف، یو این ایچ سی آر اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) 15 متاثرہ دیہات میں 550 سے زیادہ خاندانوں کو پناہ، خوراک اور غیرغذائی مدد مہیا کر رہے ہیں۔