انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: انسانی بحران کی انتہائی بگڑتی صورتحال پر یو این کو تشویش

عالمی ادارہ خوراک ’انرا‘ کے ایک سکول میں پناہ لیے ہوئے فلسطینیوں کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔
© WFP/Ali Jadallah
عالمی ادارہ خوراک ’انرا‘ کے ایک سکول میں پناہ لیے ہوئے فلسطینیوں کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔

غزہ: انسانی بحران کی انتہائی بگڑتی صورتحال پر یو این کو تشویش

انسانی امداد

اقوام متحدہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں لوگوں کو شمال سے جنوب کی جانب منتقل ہونے کے احکامات واپس لے جبکہ ادارے کے امدادی ماہرین نے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی خیریت کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کو اسرائیلی فوج میں ان کے رابطہ افسروں نے بتایا ہے کہ علاقے کے شمال میں رہنے والے ہر فرد کو 24 گھنٹے کے اندر جنوبی غزہ کی جانب منتقل ہونا ہو گا۔

Tweet URL

اس حکم کا اطلاق اقوام متحدہ کے عملے اور سکولوں، طبی مراکز اور ہسپتالوں سمیت ادارے کے سہولتی مقامات پر پناہ لینے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ منتقل ہونے والے لوگوں کی متوقع تعداد تقریباً 11 لاکھ ہو گی اور اس نقل مکانی کے بہرصورت تباہ کن انسانی نتائج برآمد ہوں گے۔

'موت کی سزا' 

اسی پیغام کو دہراتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اسرائیل سے کہا ہےکہ وہ لوگوں کو غزہ کے جنوبی علاقے کی جانب منتقل ہونے کے احکامات واپس لے۔ ادارے کے ترجمان طارق جاساروک نے اسے بہت سے لوگوں کے لیے 'موت کی سزا' قرار دیا ہے۔ 

جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ طبی حکام کے اندازوں کے مطابق شمالی غزہ کے ہسپتالوں میں زیرعلاج لوگوں کا انخلا ناممکن ہو گا۔

اقوام متحدہ کے شعبہ امدادی امور کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے ٹویٹ کیا ہے کہ "غزہ میں لوگوں کی گردن کے گرد پھندا سخت ہو رہا ہے۔ اس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے 24 گھنٹوں میں جنگ زندہ گنجان علاقے میں ایک سے دوسری جگہ جانا کیسے ممکن ہے۔"

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انرا) کے سربراہ فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو شمال سے جنوب کی جانب منتقل ہونے کے حکم سے اس قدر بڑے پیمانے پر مصائب  جنم لیں گے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور غزہ کے لوگ مزید پستی میں گر جائیں گے۔

انہوں نےکہا کہ علاقے بھر میں 430,000 لوگ پہلے ہی بے گھر ہیں اور ان میں سے 270,000 سے زیادہ لوگ 'انرا' کی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ 

'انرا' نے ٹویٹ کیا ہے کہ "غزہ تیزی سے جہنم زار بنتا جا رہا ہے اور مکمل تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ تمام فریقین کو جنگی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔"

اقوام متحدہ نے غزہ میں یرغمال بنا کر رکھے گئے لوگوں کی فوری رہائی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ ان لوگوں کو اسرائیل پر حماس کے مہلک حملے کے بعد اغوا کیا گیا تھا۔

ادارے نے زیرمحاصرہ علاقے میں شہریوں کے تحفظ اور فوری مدد کی فراہمی کے لیے بھی کہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور ان کے نمائندے حالات میں بہتری لانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

نظام صحت کی تباہی 

طارق جاساروک نے بتایا ہے کہ غزہ میں سات بڑے ہسپتالوں میں سے چھ جزوی طور پر ہی کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں طبی نظام منہدم ہونے کو ہے۔ علاقے کے شمال میں دو بڑے ہسپتالوں میں مشترکہ طور پر 760 بستروں کی گنجائش پہلے ہی پُر ہو چکی ہے۔ ان میں انڈونیشین ہسپتال اور شفا ہسپتال شامل ہیں۔ غزہ کے جنوب میں واقع ہسپتالوں میں بھی گنجائش سے زیادہ مریض بھرے ہوئے ہیں۔ 

بدحال لوگوں کے لیے 'موت کی سزا' 

طارق جاساروک نے غزہ کے طبی مراکز کی صورتحال کو انتہائی مایوس کن بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی کارکنوں کے مطابق ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں کیونکہ مردہ خانوں میں گنجائش نہیں رہی جبکہ ایمبولینس گاڑیوں اور ڈاکٹروں کو یہ ہولناک فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کسے بچانا اور کسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید زخمیوں اور بالغوں، بچوں اور انتہائی نگہداشت میں لائف سپورٹ پر انحصار کرنے والے نومولود بچوں کی منتقلی ان کے لیے سزائے موت کے مترادف ہو گی اور طبی کارکنوں کو علاقے سے نقل مکانی کے لیے کہنا ظلم سے کہیں بدتر ہے۔