انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان میں زلزلے کا ایک اور جھٹکا، امدادی کارروائیاں تیز

افغانستان کے صوبہ ہیرات کے لوگ زلزلے کے نتیجے میں آنے والی تباہی کا اندازہ اور اس نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Osman Khayyam
افغانستان کے صوبہ ہیرات کے لوگ زلزلے کے نتیجے میں آنے والی تباہی کا اندازہ اور اس نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان میں زلزلے کا ایک اور جھٹکا، امدادی کارروائیاں تیز

انسانی امداد

بدھ کی صبح مغربی افغانستان میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے میں 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے ہیں اور اقوام متحدہ نے اس تباہی کے متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری سے 20 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

تازہ ترین زلزلہ ہرات شہر کے قریب مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 10 منٹ پر آیا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.3 تھی۔

Tweet URL

چند روز پہلے اسی علاقے میں آنے والے طاقتور زلزلوں میں 2,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات 

عالمی پروگرام برائے خوراک 'ڈبلیو ایف پی'متاثرہ علاقوں میں ہنگامی غذائی مدد مہیا کر رہا ہے جبکہ عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے ہسپتالوں کو زخمیوں کے علاج میں مدد دینے کے لیے طبی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے متاثرین کے لیے کمبل، خیمے اور پینےکا پانی بھجوایا ہے اور انہیں نفسیاتی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے اداروں نے نئے زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے اور امدادی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے متاثرہ علاقوں میں اپنی مزید ٹیمیں بھیج دی ہیں۔

موسم سرما کی ضروریات 

اس سے پہلے ہفتے کے روز آنے والے زلزلے میں تقریباً 1,730 خاندان یا 12,100 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اس زلزلے میں ہلاک ہونے والے 2,000 سے زیادہ لوگوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ 

افغانستان میں یونیسف کی افسر اطلاعات ریبیکا ویٹیکو نے کہا ہے کہ جو لوگ زلزلے میں بچ گئے ہیں انہوں ںے اپنے عزیزوں، گھروں اور اپنی املاک کو کھو دیا ہے۔ 

انہوں نے بتایا ہےکہ گزشتہ روز انہوں نے ایک متاثرہ گاؤں میں بچوں سے ملاقات کی جہاں خاندان اپنے گھر بار سے محروم ہو چکے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ آنے والے موسم سرما میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔

ریبیکا کا کہنا ہے کہ دنیا افغانستان کے بچوں کو مت بھولے۔