انسانی کہانیاں عالمی تناظر
بمباری کے بعد غزہ کی ایک گلی کی تباہی کا منظر۔

جانیے اسرائیل فلسطین بحران کے حل میں اقوام متحدہ کی کوششوں بارے

© UNRWA/Mohammed Hinnawi
بمباری کے بعد غزہ کی ایک گلی کی تباہی کا منظر۔

جانیے اسرائیل فلسطین بحران کے حل میں اقوام متحدہ کی کوششوں بارے

انسانی امداد

اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں اہم کرداروں سے رابطہ کر کے اور لوگوں کو ہنگامی مدد کی فراہمی کے ذریعے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین بحران میں کمی لانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔

بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث یہ تنازع شدت اختیار کر رہا ہے اور اسرائیل نے 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کے علاقے غزہ میں اپنی زمینی فوجی کارروائی کے دوران خوراک، پانی اور اہم خدمات کی فراہمی پوری طرح بند کر دی ہے۔

اگرچہ سوموار کی رات غزہ میں ہونے والے حملوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر کو نمایاں نقصان ہوا تاہم اس کے ادارے بدستور اس علاقے میں اور دیگر جگہوں پر متاثرہ آبادی کو مدد دینے میں مصروف ہیں۔ یہ امدادی کارروائیاں مغربی کنارے میں بھی جاری ہیں جہاں اس وقت رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی تعداد 871,000 ہے۔  

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی اداری 'انرا' کا قومی اور بین الاقوامی امدادی عملہ 13,000 افراد پر مشتمل ہے جن میں خود پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ ان میں بیشتر لوگ غزہ میں تعینات ہیں اور 4,000 مغربی کنارے میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سیکڑوں اہلکار اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

اسرائیل۔لبنان سرحد کی صورتحال اکثروبیشتر کشیدہ رہتی ہے جہاں دونوں طرف اقوام متحدہ کے امن مشن 'یونیفیل' کے کے 9,400 اہلکار، 900 افراد پر مشتمل غیرفوجی عملہ اور مشن کی سمندری ٹاسک فورس کے 850 اہلکار تعینات ہیں۔ 

خطے میں اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

بمباری میں غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کے زیراستعمال ایک عمارت کی تباہی کے مناظر۔
© UNRWA
بمباری میں غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کے زیراستعمال ایک عمارت کی تباہی کے مناظر۔

1۔ تحفظ کی فراہمی 

ہفتے سے غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری فضائی حملوں میں قریباً 190,000 افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' نے اپنے 288 سکولوں میں سے 83 میں 137,000 میں مردوخواتین اور بچوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ ادارے کے مطابق فضائی حملوں میں جمعرات تک اس کے 18 مراکز کو بالواسطہ اور براہ راست نقصان پہنچا اور اس دوران لوگ ہلاک و زخمی بھی ہوئے۔

غزہ پر بمباری کے بعد لوگ ’انرا‘ کے تحت چلنے والے ایک سکول میں پناہ کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔
© UNRWA/Mohammed Hinnawi
غزہ پر بمباری کے بعد لوگ ’انرا‘ کے تحت چلنے والے ایک سکول میں پناہ کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

2۔ کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات 

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام بشمول مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوم متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کا دفتر (یو این ایس سی او) تنازعے کے فریقین اور امریکہ، قطر اور یورپی یونین سمیت دیگر اہم ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

لبنان میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا مشن 'یونیفل' اسرائیل۔لبنان سرحد کے ساتھ سلامتی کی نازک صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور شہریوں کو رہنمائی دینے اور سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں تازہ ترین حالات سے آگاہی مہیا کرنے میں مصروف ہے۔ 

'یونیفیل' کا کہنا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے مابین غلط فہمی کے خدشے کو روکنے کے لیے ہر سطح پر رابطوں اور تعاون کے طریقوں سے کام لے رہا ہے تاکہ تنازعے کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فی الوقت یہی اس کی ترجیح ہے اور وہ اپنا یہ کام انجام دینے کے لیے چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہے۔ 

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستے گشت کر رہے ہیں۔
UNIFIL/Pasqual Gorriz
جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستے گشت کر رہے ہیں۔

3۔ ہنگامی خدمات 

اسرائیل نے غزہ میں خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی فراہمی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں نے خوراک کی قلت اور بڑھتے ہوئے بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ 'انرا' کی پناہ گاہوں میں موبائل بیت الخلا اور نہانے کے شاور کا انتظام کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر 'او سی ایچ اے' کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کو اب روزانہ تین سے چار گھنٹے کے لیے ہی بجلی میسر ہے جس سے طبی مراکز میں علاج معالجہ اور خاص طور پر زخمیوں کا علاج متاثر ہو رہا ہے۔

Tweet URL

4۔ غذائی امداد  

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور 'انرا' غزہ کی پناہ گاہوں میں بے گھر لوگوں میں روٹی کی تقسیم میں تعاون کر رہے ہیں۔ 'انرا' نے بتایا ہے کہ تقریباً پانچ لاکھ لوگوں یا 112,000 خاندانوں کو اس ہفتے خوراک میسر نہیں آ سکی کیونکہ اس کے خوراک کی تقسیم کے مراکز بند ہیں۔ 

منگل کو 'ڈبلیو ایف پی' نے 'انرا' کی پناہ گاہوں میں تازہ روٹی، ڈبہ بند خوراک اور تیار کھانے تقسیم کرنا شروع کیے اور یہ مدد غزہ اور مغربی کنارے میں 800,000 سے زیادہ متاثرین تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ 

5۔ طبی خدمات کی فراہمی 

غزہ بھر میں مفت ٹیلی فون کال پر ہنگامی طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ممالک کے لیے مخصوص فنڈ (سی بی پی ایف) اور اس کے شراکت داروں نے غزہ میں طبی نظام کو بڑھتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے چوٹوں کے علاج میں درکار سازوسامان اور ہنگامی ادویات و دیگر ضروری اشیا کا اجرا کیا ہے۔ 'انرا' کے طبی مراکز میں عملے کے 125 ارکان باری باری فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 22 میں سے 15 طبی مراکز مفت فون کال کے ذریعے فراہم کی جانے والی اطلاعات پر ہنگامی مریضوں کو صبح 9 سے رات 12 بجے تک بنیادی طبی خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ 

امداد اور سماجی خدمات سے متعلق ہیلپ لائن منگل سے فعال ہے اور لوگوں کو فاصلاتی نفسیاتی مدد اور ابتدائی طبی امداد مہیا کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے غزہ اور مغربی کنارے میں ضرورت مندوں کے لیے نفسیاتی ماہرین کی خدمات تیار رکھی ہیں۔ 'انرا' کا کہنا ہےکہ بڑھتی ہوئی طبی ضروریات کے باعث مقامی لوگ اسے ان طبی مراکز کو کھولنے کا کہہ رہے ہیں جو علاقے میں حملے کے بعد بند پڑے ہیں۔

امدادی ادارے ’انرا‘ کا ایک سکول جس میں 225 کے قریب لوگ پناہ لیے ہوئے تھے اسرائیلی بمباری کی زد میں آگیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
© UNRWA/Mohammed Hinnawi
امدادی ادارے ’انرا‘ کا ایک سکول جس میں 225 کے قریب لوگ پناہ لیے ہوئے تھے اسرائیلی بمباری کی زد میں آگیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

6۔ امدادی راہداریاں 

رواں ہفتے غزہ میں امدادی عملے اور سامان کی رسائی بند ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے امدادی رابطہ کار لین ہیسٹنگز کا کہنا ہے کہ انتہائی کشیدہ صورتحال کے باعث امدادی عملے کی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔ دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے دیگر ادارے اور شراکت دار غزہ میں لوگوں کو ضرورت کی اہم اشیا فراہم کرنےکے لیے راہداری قائم کرنے کی غرض سے کام کر رہے ہیں۔