انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: زلزلے میں پانچ سو افراد تاحال لاپتہ

ہیرات کے ایک گاؤں میں خاتون زلزلے کے نیتجے میں ملبے کا ڈھیر بن جانے والے اپنے گھر کے قریب کھڑی ہے۔
© UNICEF/Osman Khayyam
ہیرات کے ایک گاؤں میں خاتون زلزلے کے نیتجے میں ملبے کا ڈھیر بن جانے والے اپنے گھر کے قریب کھڑی ہے۔

افغانستان: زلزلے میں پانچ سو افراد تاحال لاپتہ

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کاروں نے بتایا ہے کہ افغانستان میں زلزلے کے بعد لوگوں کو تحفظ اور مدد پہنچانے کا کام تیزی جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ ہے جبکہ 500 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

اس زلزلے کا مرکز ضلع زنداجان تھا جہاں تقریباً 1,300 ہلاکتوں اور 1,700 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی امدادی ٹیموں کے مطابق زلزلے میں بعض جگہوں پر پورے کے پورے گاؤں تباہ ہو گئے ہیں۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر 'او سی ایچ اے' کے ترجمان جینز لائرکے نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اندازے کے مطابق ہرات کے پانچ اضلاع میں 12,110 لوگ یا 1,730 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ تاحال نقصان کا اندازہ لگانے کا کام تاحال جاری ہے اور اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان ولیم سپائنڈلر نے کہا ہے کہ زلزلے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور بچ جانے والے بہت سے لوگ زخمی ہیں۔ تلاش اور بچاؤ کا کام کرنے والی ٹیمیں اب انتہائی بدحال لوگوں کے لیے پانی اور پناہ کا سامان لے کر جا رہی ہیں۔ اس زلزلے کے بعد آنے والے ثانوی جھٹکوں کے نتیجے میں مزید نقصان ہوا۔ ان میں سے ایک زلزلہ 5.1 شدت کا تھا۔

سپائنڈلر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور موسم سرما کی آمد پر ان کے پاس گرم کپڑے نہیں ہیں۔ انہوں ںے بتایا کہ بہت سے متاثرین ایسے ہیں جنہیں خوراک کی اشد ضرورت ہے اور زلزلےکے بعد اب تک انہیں گرم کھانا میسر نہیں آیا۔ 

متاثرین کے لیے طبی خدمات 

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہرات کے علاقائی ہسپتال میں 650 زخمیوں کے علاج کے لیے طبی سازوسامان مہیا کیا ہے۔ مزید 25 میٹرک ٹن ادویات اور طبی سامان ہرات بھیجا جا چکا ہے جبکہ 54 متحرک طبی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں جن میں سے تین کو ڈبلیو ایچ او نے روانہ کیا ہے۔ 

زنداجان اور غوریان اضلاع میں 12 ایمبولینس گاڑیاں بھی بھیجی گئی ہیں جن کے ذریعے لاشوں اور زخمیوں کو علاقائی اور دیگر ہسپتالوں میں لایا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جاساروک نے کہا ہے کہ اس وقت زخمیوں کی زندگی بچانے اور متاثرین کو انسانی امداد بشمول بنیادی طبی خدمات کی فراہمی پر فوری توجہ دی جا رہی ہے۔ اس تباہی سے خواتین، بچے اور کمزور لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ خواتین طبی کارکن کسی امتیاز کے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

بیماریاں پھیلنے کا خدشہ 

عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اس تباہی کے بعد خسرے، سانس کی انفیکشن اور اسہال جیسی بیماریاں پھیلنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تیاریوں میں اضافہ کریں۔

انہوں نے متاثرین کے لیے نفسیاتی طبی امداد کی فراہمی اور بچوں کے لیے دوستانہ ماحول مہیا کرنے کو بھی کہا ہے جنہیں اپنے عزیزوں کے بچھڑنے سے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہی خدشات کو دہراتے ہوئے جینز لائرکے نے خبردار کیا ہے کہ بچے ایسی صورتحال میں خاص طور پر کمزور ہوتے ہیں جنہیں زلزلے سے شدید نفسیاتی صدمہ پہنچا ہے اور انہیں ذہنی صحت کی خدمات اور نفسیاتی مدد درکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد سے لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 8 اکتوبر تک 550 سے زیادہ شدید زخمیوں کو ہرات شہر کے سات ہسپتالوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔

متاثرین کو ہنگامی پناہ کا سامان اور سردیوں کا طویل مدتی مقابلہ کرنے کے لیے درکار چیزیں جیسا کہ ترپال، کمبل، کپڑے، برتن فراہم کرنے کے علاوہ اور بیت الخلا، پانی لے جانے اور جمع کرنے کے کنٹینر اور غذائی سہولیات بھی ترجیح بنیادوں پر مہیا کی جا رہی ہیں۔