افغانستان میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد امددای سرگرمیاں جاری
افغانستان میں زلزلے کے بعد اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں میں جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
ہفتے کو صوبہ ہرات کے مغربی علاقے میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے میں تقریباً 1,300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امدادی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر 'او سی ایچ اے' کے مطابق اس زلزلے کا زیرزمین مرکز ضلع زنداجان میں تھا جہاں اطلاعات کے مطابق تمام گھر تباہ ہو گئے ہیں۔
اندازے کے مطابق ہرات کے پانچ اضلاع میں تقریباً 12,200 سے زیادہ لوگ زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں متاثرہ خاندان صوبائی دارالحکومت ہرات شہر کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیراہتامم لوگوں کو ہنگامی پناہ کا سامان اور دیگر اشیا بشمول کمبل، گرم کپڑے، خوراک، صحت و صفائی کا سامان اور پانی کی بالٹیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے بھی امدادی ٹیمیں بھیجی ہیں اور زخمیوں کے علاج اور ہنگامی سرجری کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار ڈینیئل اینڈرز نے بھی ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے افغانستان کے لیے مختص فنڈ سے پانچ ملین ڈالر مہیا کرنے کی منظوری دی ہے۔
آنے والے دنوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اور نقصانات کا اندازہ لگانے کا کام تاحال جاری ہے۔