انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: روسی حملوں میں شہری جانوں و املاک کا نقصان جاری

مشرقی یوکرین کے گاؤں روزا پر حملے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔
© UNOCHA/Saviano Abreu
مشرقی یوکرین کے گاؤں روزا پر حملے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

یوکرین: روسی حملوں میں شہری جانوں و املاک کا نقصان جاری

امن اور سلامتی

سیاسی امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روز میری ڈی کارلو نے یوکرین کے شہروں اور شہری تنصیبات پر روس کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دوران جنگ عام لوگوں کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں سے جواب طلبی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے علاقے خارکیئو میں روس کے حالیہ حملوں سے شہریوں کے ناقابل برداشت نقصان میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

Tweet URL

5 اکتوبر کو خارکیئو کے ہورزا گاؤں پر حملے میں کم از کم 52 افراد ہلاک ہو گئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ برس فروری سے اب تک روس کی جانب سے شہریوں پر کیے جانے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسی علاقے میں ایک عمارت پر میزائل حملہ کیا گیا جس میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ 

شہریوں کا نقصان

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق 'او ایچ سی ایچ آر' نے تصدیق کی ہے کہ 8 اکتوبر تک یوکرین میں جنگ کے باعث 560 بچوں سمیت 9,806 شہری ہلاک اور 17,962 زخمی ہو چکے تھے۔ 

ڈی کارلو کا کہنا ہے کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

اندھا دھند حملے

حالیہ ہفتوں کے دوران کیرسون، ژاپوریزیا، نیپرو، لیئو، سومے، ڈونیسک، اوڈیسا، کیئو اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو بے رحمانہ اور اندھا دھند حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ان حملوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات بشمول اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

ان حملوں اور روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام کو ختم کرنے سے ناصرف یوکرین کے کسانوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے بلکہ دنیا بھر میں بھوک بڑھنے کا خطرہ بھی ہے۔ 

انسانی حقوق کا تاریک منظرنامہ

روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے بارے میں بتایا جو ملک بھر میں حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تاریک تصویر پیش کرتی ہے اور ایسی بیشتر پامالیاں روس کی مسلح افواج نے کی ہیں۔ 

ان میں روس کی افواج اور اس کے قیدخانوں کے عملے کی جانب سے دوران جنگ جنسی تشدد اور روس کے زیرقبضہ علاقوں میں شہریوں کو ناجائز طور پر گرفتار کرنے اور انہیں قید تنہائی میں رکھے جانے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، انسانی حقوق کے دفتر نے یوکرین کی افواج کی جانب سے بھی ایسے ہی اقدامات کی اطلاع دی ہے جن میں بنیادی طور پر نفاذ قانون کے ذمہ دار حکام ملوث ہیں۔ 

روس کی ذمہ داری

'او ایچ سی ایچ آر' نے روس میں ہونے والی حالیہ قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت وہ بہت سے جرائم میں ملوث اپنے فوجیوں کو معافی دے سکتا ہے۔ انڈر سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اس میں ممکنہ طور پر ایسے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ 

انہوں نے روس سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے یوکرین میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور اپنی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث عناصر کا محاسبہ کرے۔