انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافہ، امدادی کارروائیاں تیز

یونیسف کا عملہ افغانستان کے صوبہ ہرات کے زلزلہ زدہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ لگا رہا ہے۔
© UNICEF/Rebecca Phwitiko
یونیسف کا عملہ افغانستان کے صوبہ ہرات کے زلزلہ زدہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ لگا رہا ہے۔

افغانستان: زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافہ، امدادی کارروائیاں تیز

انسانی امداد

افغانستان کے مغربی حصے میں آنے والے زلزلے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے اور شراکت دار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اس زلزلے میں اب تک 2,000 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افغانستان کے لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہےکہ سردی کا موسم آ رہا ہے اور عالمی برادری متحد ہو کر زلزلے سے متاثرہ افغانوں کی مدد کرے جن میں بہت سے لوگ اس بحران سے پہلے ہی ضرورت مند تھے۔

ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ اور افغانستان میں اس کے شراکت دار ملکی حکام کے ساتھ مل کر امدادی ضروریات کا اندازہ لگانے اور ہنگامی مدد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے امدادی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے متاثرہ علاقوں میں مزید ٹیمیں بھیج دی ہیں۔ ادارے نے صحت و صفائی کے سامان کے 10 ہزار تھیلے، خاندانوں کے لیے امدادی اشیا پر مشتمل پانچ ہزار تھیلے اور سردیوں کے کپڑوں کے 1,500 جوڑے، کمبل، 1,000 ترپالیں اور گھریلو ضرورت کا بنیادی سامان بھجوایا ہے۔

افغانستان میں یونیسف کے نمائندے فران ایکویزا کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے شراکت داروں کے تعاون سے متاثرہ لوگوں کو فوری مدد پہنچانےکی ہرممکن کوشش کرے گا۔

ہرات کے صوبائی ہسپتال میں اب تک 200 زخمیوں کو ہنگامی طبی مدد دی جا چکی ہے جہاں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایف پی) نے 150 سے زیادہ افراد کی سرجری کے لیے سازوسامان فراہم کیا ہے۔

امدادی شراکت داروں نے بھی علاقے اور اس کے قرب وجوار کے ہسپتالوں میں متاثرین کو طبی مدد پہنچانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین کے لیے پناہ، خوراک، ضروری سامان اور دیگر طرح کی امداد کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

زلزلے میں زخمی ہونے والوں کو قریبی طبی مراکز میں امداد دی جا رہی ہے جبکہ یونیسف اور شراکت داروں نے ہنگامی نوعیت کی ادویات بھی فراہم کی ہیں۔ ادارے کی جانب سے عارضی طبی مراکز کے قیام کے لیے خیمے بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔

افغانستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔
© UNICEF/Sharifa Khan
افغانستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔

نقصانات کا تخمینہ

عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور شراکت داروں نے نقصانات اور ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے اپنی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کو روانہ کی ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی مدد مہیا کر رہے ہیں۔ 

 آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر 700 خاندانوں کو ہنگامی پناہ کا سامان مہیا کریں گے جن میں 640 خیمے، کمبل اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔ 

'ڈبلیو ایف پی' زنداجان ضلع کے متعدد دیہات میں 710 متاثرہ گھرانوں کے لیے توانائی سے بھرپور بسکٹ بھیجے گا اور 'یو این ایف پی اے' 1,300 سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے سینیٹری پیڈز بھجوا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی جانب سے بھی زنداجان میں ہنگامی امداد بھجوائے جانے کا امکان ہے۔

انسانی جانیں بچانے کی کوششیں

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 6.3 شدت کے زلزلے نے آٹھ دیہات کو متاثر کیا۔ اقوام متحدہ کے امدادی دفتر (او سی ایچ اے) نے بتایا ہے کہ زلزلے میں سیکڑوں مکان تباہ ہو گئے۔ محل وداخہ اس زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔ اس زلزلے کا مرکز ہرات سے 40 کلومیٹر دور تھا۔ بڑے زلزلے کے بعد اس کے ثانوی جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے شراکت دار اور مقامی حکام گرنے والی عمارتوں کے ملبے میں لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اندازہ ہےکہ ہلاکتوں کی تعداد اب تک معلوم تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض لوگ تاحال ملبے تلے دبے ہیں۔