تحفظ انسانیت کے لیے خودکار اسلحہ پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ
اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ خودکار ہتھیاروں کے نظام پر پابندیوں اور ان کے استعمال کی واضح ممانعت پر مبنی ایک نئے قانونی معاہدے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور 'آئی سی آر سی' کی صدر مرجانا سپولجیرک کا کہنا ہے کہ انسانیت کو تحفظ دینے کے لیے خودکار ہتھیاروں کے نظام سے متعلق نئے بین الاقوامی قانون کی فوری ضرورت ہے اور اس حوالے سے بات چیت 2026 تک مکمل ہو جانی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انسانی مدد کے بغیر خودکار طریقے سے اہداف منتخب کرنے اور انہیں نشانہ بنانے والے یہ نظام انسانی، قانونی، اخلاقی اور حفاظتی حوالے سے سنگین خدشات کے حامل ہیں اور دنیا میں سلامتی کے موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو ان کے استعمال پر واضح بین الاقوامی حدود متعین کرنے سے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
ان میں ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی جگہوں، انہیں چلانے کے حالات اور ان کے استعمال کے دورانیے کی طوالت کو محدود کرنا، ان کے اہداف اور ان میں استعمال ہونے والی طاقت میں کمی لانا اور اس حوالے سے یقینی طور پر موثر انسانی نگرانی، ان کا استعمال روکنے کے لیے بروقت مداخلت اور انہیں غیرفعال کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
بڑھتے ہوئے خدشات
اقوام متحدہ اور 'آئی سی آر سی' نے کہا ہے کہ مشینوں کے ذریعے خودکار طریقے سے انسانوں کو نشانہ بنایا جانا ایک ایسی اخلاقی حد ہے جسے عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طاقت اور صوابدید کی حامل مشین کے انسانی مداخلت کے بغیر جانیں لینے کے عمل کی بین الاقوامی قانون کے ذریعے ممانعت ہونی چاہیے۔
انتونیو گوتریش اور مرجانا سپولجیرک نے متنبہ کیا کہ ایسے ہتھیاروں کے نظام کی تیاری اور ان کے پھیلاؤ سے جنگوں کے انداز میں نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ہے اور ان سے عالمی سطح پر عدم استحکام اور تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے افواج اور عام شہریوں کو لاحق خطرات میں کمی لانے کا تاثر ان کی جنگوں میں شمولیت اور تشدد میں اضافے کے امکان کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی قانون
انسانی قانون بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے اور اس کے تحت تمام دیگر ہتھیاروں کے استعمال پر عمومی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ممالک اور افراد ان قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ہیں۔ تاہم خودکار ہتھیاروں کے خلاف مخصوص بین الاقوامی معاہدے کی عدم موجودگی میں ممالک کے ان عمومی قوانین کے اطلاق سے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر ہو سکتے ہیں۔
دونوں اداروں کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ خودکار ہتھیاروں کے بارے میں نئے بین الاقوامی قوانین کو موجودہ قانون کی وضاحت کرنا اور اسے مضبوط بنانا ہو گا۔
یہ ایک حفاظتی اقدام اور ان لوگوں کو تحفظ دینے کا موقع ہو گا جو ایسے ہتھیاروں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انسانیت کے لیے خوفناک نتائج سے بچنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
خطرے پر واضح انتباہ
انتونیو گوتیرش اور سپولجیرک نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی سے انسانیت کی بھلائی کا کام لینے کے لیے عالمی رہنماؤں کو سب سے پہلے فوری خطرات اور ان کے ناقابل تلافی نقصانات سے نمٹنا ہو گا۔
اس کا مطلب خودکار ہتھیاروں کے ایسے نظام کی ممانعت ہے جو اس انداز میں کام کرتا ہےکہ اس کے نتائج کی پہلے سے پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر خودکار ہتھیاروں کو مشینی الگورتھم کے ذریعے چلایا جانا ناقابل قبول حد تک خطرناک تصور ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے سائنس دان اور ہتھیاروں کی صنعت کے نمایاں لوگ بھی اس خطرے سے متنبہ کر رہے ہیں۔
انتونیو گوتیرش اور مرجانا سپولجیرک نے کہا کہ خودکار ہتھیاروں کی تمام اقسام پر واضح پابندیوں کی ضرورت ہے تاکہ اس معاملے میں بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ذمہ داری کا پاس یقینی بنایا جا سکے۔