انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: روسی جارحیت سے عام شہریوں کی ہلاکتیں اور مصائب جاری، رپورٹ

جنگ کی وجہ سے یوکرین میں شہری ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
© WFP/Anastasiia Honcharuk
جنگ کی وجہ سے یوکرین میں شہری ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

یوکرین: روسی جارحیت سے عام شہریوں کی ہلاکتیں اور مصائب جاری، رپورٹ

انسانی حقوق

یوکرین میں فروری 2022 سے جاری جنگ کے دوران تقریباً 10,000 شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے بتایا ہے کہ رواں سال فروری تا جولائی روزانہ اوسطاً چھ افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

یہ تفصیلات مشن کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے لوگ اس جنگ کی خوفناک قیمت چکا رہے ہیں۔

مشن کی سربراہ ڈینیل بیل نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں خاص طور پر 2023 کے چھ ماہ کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس عرصہ میں مجموعی طور پر ایک ہزار شہری ہلاک اور تقریباً چار ہزار زخمی ہوئے۔ 

خوف اور تباہی 

اس جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لاکھوں لوگوں کی زندگی خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے۔ رہائشی علاقوں، اہم تنصیبات، اناج کے گوداموں اور زرعی مراکز پر روس کے میزائل حملوں سے خوف اور تباہی پھیل رہی ہے۔

ان حملوں سے ہونے والے وسیع تر معاشی و سماجی نقصان نے شہریوں کے حالات کو اور بھی بگاڑ دیا ہے۔ 

روس کے زیرقبضہ علاقوں میں شہریوں کو تشدد، بدسلوکی، جنسی زیادتی اور ناجائز حراستوں کا سامنا ہے۔ سیکڑوں لوگ قید میں ہیں اور ان کے اہلخانہ کو یہ علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

بڑے پیمانے پر تشدد 

اقوام متحدہ کے مشن نے ان چھ ماہ کے دوران شہریوں اور جنگی قیدیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے ساتھ سختی سے مارپیٹ، انہیں بجلی کے جھٹکے دینے، بناوٹی سزائے موت سے خوف زدہ کرنے، جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کے ساتھ توہین آمیز روا رکھنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق، روس کے زیرقبضہ علاقوں میں قید خانوں کی صورت حال بھی انتہائی ہولناک ہے جہاں خوراک کی قلت اور طبی خدمات کے فقدان، گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے، قیدیوں کو نیند سے محروم رکھنے اور بیرونی دنیا تک رسائی نہ دینے کی اطلاعات ہیں۔ 

روس انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے عملے کو قیدیوں تک رسائی دینے سے تاحال انکار کرتا چلا آیا ہے۔ اس سے برعکس، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اقوام متحدہ کو اپنے ہاں قیدیوں تک بلا روک و ٹوک رسائی دے رہا ہے اور مغربی شہر لیئو کے قریب جنگی قیدیوں کے لیے اس کے کیمپ کے حالات میں بہتری آئی ہے۔

یوکرین میں جنگ کی وجہ سے جو بچے تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں یونیسف خصوصی کلاسوں کے ذریعے وہ خلاء پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
© UNICEF
یوکرین میں جنگ کی وجہ سے جو بچے تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں یونیسف خصوصی کلاسوں کے ذریعے وہ خلاء پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

اولیوینکا پر حملے کی تازہ ترین صورتحال

اقوام متحدہ کے مشن نے جولائی 2022 کو اولیوینکا کی پینل کالونی پر کیے جانے والے حملے کی مزید تحقیقات کے لیے بھی کہا ہے جس میں یوکرین کے 51 جنگی قیدی ہلاک اور 139 زخمی ہو گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں روس کی جانب سے ہیمارس راکٹ استعمال نہیں کیے گئے۔ 

رپورٹ میں روس پر تنقید کی گئی ہے کہ اس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگی قیدیوں کو محاذ جنگ کے قریب رکھا اور اقوام متحدہ کو حملے کی جگہ کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ 

بچوں کی منتقلی اور ملک بدری 

رپورٹ میں یوکرین کے بچوں کے مستقبل کی بابت بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں یوکرین میں روس کے زیرقبضہ علاقوں سے دوسری جگہوں پر یا روس میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس میں خاص طور پر ان بچوں کا تذکرہ ہے جنہیں بظاہر ان کے والدین کی رضامندی سے روس میں گرمائی کیمپوں میں بھیجا گیا لیکن ان کی واپسی نہیں ہوئی۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک روس ان بچوں کے بارے میں تفصیلات بتانے اور انہیں ان کے خاندانوں سے یکجا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 

انسانی حقوق کے نگران مشن نے ملک بدر کیے گئے اور یوکرین میں روس کے زیرقبضہ علاقوں میں دیگر جگہوں پر منتقلی کیے جانے والے افراد بشمول بچوں اور معذور افراد کی واپسی پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں کاخوفکا ڈیم کے ٹوٹنے سے ہونے والی تباہی کا بھی ذکر کیا گیا کہ کیسے متاثرین ابھی تک اس کے معاشی اور ماحولیاتی نقصانات سے نہیں نکل سکے۔