انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گوتیرش کا ہیٹی میں کثیر قومی مشن تعینات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم

ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ پرنس میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ناکارہ گاڑیوں کی مدد سے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں تاکہ مسلح جتھوں آمدورفت کو کم کیا جا سکے۔
© UNOCHA/Giles Clarke
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ پرنس میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ناکارہ گاڑیوں کی مدد سے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں تاکہ مسلح جتھوں آمدورفت کو کم کیا جا سکے۔

گوتیرش کا ہیٹی میں کثیر قومی مشن تعینات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ہیٹی میں بین الاقوامی معاون مشن کی تعیناتی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ ملک کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مشن کی تعیناتی سے قبل اقوام متحدہ ہیٹی کے حکام کے ساتھ خاص طور پر پولیس کو مدد دینے، اصلاحات، نظام انصاف اور انتخابی عمل سے متعلق امور پر رابطہ برقرار رکھے گا۔ 

انہوں نے یہ بات سلامتی کونسل کی جانب سے غرب الہند کے اس ملک میں معاون مشن بھیجنے کی منظوری سے ایک روز بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ 

اقوام متحدہ کی مکمل حمایت

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز منظور کی جانے والی قرارداد ملک میں اقوام متحدہ کے مشن کی تعیناتی سے متعلق نہیں ہے۔ تاہم ہیٹی میں اقوام متحدہ کا مربوط دفتر (بی آئی این یو ایچ) اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے، انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ریاست کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کا پورا احترام کرتے ہوئے کثیرملکی مشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

ہیٹی میں مسلح گروہوں نے ایک برس سے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بڑے حصوں پر تسلط جما رکھا ہے اور شہریوں کو دہشت زدہ کر رہے ہیں۔ اس مشن نے جتھوں کے بے لگام تشدد پر قابو پانے میں مصروف ہیٹی کی پولیس کو مدد دینا ہے۔

مسلح گروہوں کا تشدد ہیٹی کے کثیرالجہتی بحران کا صرف ایک عنصر ہے جبکہ ملک بہت سے سیاسی، انسانی اور سماجی معاشی مسائل کا شکار ہے۔ 

بین الاقوامی معاون مشن ابتداً 12 مہینے تک ملک میں رہے گا اور نو ماہ کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا ہے۔ اس مشن کی قیادت کینیا کے پاس ہے جبکہ ہیٹی کے متعدد ہمسایہ ممالک نے بھی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

مثبت اقدام 

ہیٹی میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن 'بی آئی این یو ایچ' کی سربراہ ماریا آئزابیل سلواڈور نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے کو ملک میں امن و استحکام لانے کی جانب ایک مثبت اور فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ہیٹی کی حکومت طویل عرصہ سے یہ مشن بھیجنےکی درخواست کر رہی تھی جسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی دہرایا اور اس فیصلے کی بنیاد اس مشاہدے پر ہے کہ اپنی پولیس کے لیے موثر بین الاقوامی مدد کے بغیر ملک حالیہ صورتحال سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ہیٹی اور اس کی آبادی کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے وقت کے تقاضوں پر عمل کریں۔

ہیٹی میں انسانی حقوق، چند حقائق*

  • ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال گینگ وار میں ہوئے وحشیانہ حملوں سے متاثر ہوئی ہے جن میں قتل، اغواء اور اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
  • مسلح گروہوں کے ہاتھوں شہریوں کے خلاف مسلح تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
  • یہ مسلح گروہ چھتوں سے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کرنے کے لیے جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
  • بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور گھروں کو جلانے کے نتیجے میں ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
  • مسلح جتھے اپنی دہشت پھیلانے کے لیے خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہیں جن میں اجتماعی جنسی زیادتی سمیت جنسی تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔
  • تاہم قومی ادارے قانون کی حکمرانی دوبارہ قائم کرنے سے قاصر ہیں۔
  • ہیٹی میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں نیشنل پولیس کو ضروری مدد درکار ہوگی۔

* ہیٹی پر سیکرٹری جنرل کی رپورٹ سال 2023