انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایتھوپیا میں سفاکانہ جرائم جاری ہیں، یو این ماہرین کا انتباہ

ایک ماں اور بچہ ایتھوپیا میں بے گھر پر مبجور افراد کے کیمپ کی طرف جا رہے ہیں۔
© UNICEF Ethiopia/Mulugeta Ayen
ایک ماں اور بچہ ایتھوپیا میں بے گھر پر مبجور افراد کے کیمپ کی طرف جا رہے ہیں۔

ایتھوپیا میں سفاکانہ جرائم جاری ہیں، یو این ماہرین کا انتباہ

انسانی حقوق

انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایتھوپیا میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

یہ انتباہ ملک میں انسانی حقوق کے ماہرین کے بین الاقوامی کمیشن نے جاری کیا ہے جس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں حقوق کی سنگین پامالیوں اور بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات سامنے آ سکتے ہیں۔ 

کمیشن کے مطابق ملک میں جرائم پر کھلی چھوٹ جاری رہنے اور عدم استحکام میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ 

کمیشن کے چیئرپرسن محمد چندے اوتھمان نے اس صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیرجانبدار تفتیش کاروں کی جانب سے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے رہنا بہت ضروری ہے۔

حقوق کی سنگین پامالی 

ایتھوپیا کے حوالے یہ انتباہ کمیشن کی ایک رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے جو گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی گئی تھی۔ 

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3 نومبر 2020 کے بعد ایتھوپیا میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب سرکاری افواج اور ٹیگرے کے پیپلز لبریشن فرنٹ کے مابین لڑائی شروع ہوئی تھی جو بعد میں شمالی ایتھوپیا تک پھیل گئی۔ نومبر 2022 میں فریقین کے مابین جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ 

کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ لڑائی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے باوجود ٹیگرے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اس نے ایتھوپیا میں اریٹریا کی افواج کی موجودگی اور شہریوں کے خلاف جاری مظالم کی تصدیق کی ہے جن میں جنسی زیادتی اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام بھی شامل ہیں۔

خطرے کے عوامل برقرار

ملکی صورتحال کے بارے میں حالیہ تفصیلی جائزے کی بنیاد ایسے سفاکانہ جرائم کے خدشات سے متعلق تخمینے پر ہے جو انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سمیت ایسے افعال کی نشاندہی 'سفاکانہ جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تجزیے' میں کی گئی ہے۔ ایتھوپیا میں اس حوالے سے خطرے کے تمام آٹھ عوامل موجود پائے گئے ہیں۔ 

علاوہ ازیں، کمیشن نے امہارا میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ 

کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر تمام نہیں تو تشدد اور تنازعے کے بیشتر بنیادی محرکات پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔

عالمی برادری کی ذمہ داری

غیرجانبدار ماہرین میں شامل سٹیون ریٹنیر نے کہا ہے کہ صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا نہایت حقیقی اور فوری خطرہ موجود ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں مظالم کی تحقیقات یقینی بنائے تاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر قابو پایا جائے اور بدترین المیوں سے بچا جا سکے۔ 

کمیشن کی رکن رادھیکا کمارا سوامی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے میں مدد دینا اور حقوق سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کے اقدامات کرنا انسانی حقوق کونسل کا اہم ترین کردار ہے۔ ایتھوپیا کی صورتحال توجہ کا تقاضا کرتی ہے اور اس سے نمٹنے کے اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔