انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کاراباخ: امدادی کارکن بڑھتی انسانی ضروریات سے نمٹنے میں مصروف

ایک بچہ ٹوٹے ہوئے شیشوں اور ملبے سے بھری پارکنگ میں کھڑا ہے، جس کے پس منظر میں عمارتیں اور ہنگامی گاڑیاں ہیں۔
© UNOCHA ایک لاکھ سے زیادہ افراد کاراباخ کا علاقہ چھوڑ کر آرمینیا پہنچے ہیں۔

کاراباخ: امدادی کارکن بڑھتی انسانی ضروریات سے نمٹنے میں مصروف

انسانی امداد

آزربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے کاراباخ میں بحرانی حالات سے متاثرہ لوگوں کے لیے امدادی کام تیزی سے جاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر طبی مدد کی ضرورت ہے۔

نقل مکانی کے بعد کاراباخ میں سب سے بڑا شہر خانکینڈی تقریباً خالی ہو چکا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی جانب سے باقی ماندہ لوگوں کو ڈھونڈ کر انہیں مدد پہنچائی جا رہی ہے۔

Tweet URL

'آئی سی آر سی' کے حکام نے بتایا کہ امدادی خوراک کے 300 پارسل سرحدی قصبے گورس سے خانکینڈی میں بھیجے گئے ہیں۔ 

ادارے کا کہنا ہے ان میں انتہائی بدحال لوگوں کی مدد کرنا اس کی ترجیح ہے۔

ویران شہر

'آئی سی آر سی' میں تیزرفتار ترقی سےمتعلق شعبے کے سربراہ مارکو سوچی نے بتایا ہے کہ اب یہ شہر پوری طرح ویران ہے اور ہسپتال غیرفعال ہو چکے ہیں۔ طبی عملہ شہر چھوڑ کر جا چکا ہے۔ پانی کی فراہمی کے محکمے کے عہدیدار بھی چلے گئے ہیں اور یہ جگہ غیرحقیقی دکھائی دیتی ہے اور بہت سے لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو ضرورت مندوں کے لیے کھلا چھوڑ گئے ہیں۔

سوچی نے تصدیق کی کہ شہر میں بجلی اور پانی اب بھی موجود ہے اور ادارہ معمر و معذور افراد اور بے یارومددگار لوگوں کو ترجیحی بنیاد پر تلاش کر رہا ہے۔ 

ایسے لوگوں میں کینسر کی ایک معمر مریضہ سوسانا بھی شامل ہیں جنہیں گزشتہ دنوں ایک رہائشی عمارت کی چوتھی منزل سے ڈھونڈا گیا۔ وہ اکیلی تھیں اور ان کے لیے بستر سے اٹھنا ممکن نہیں تھا۔ ہمسایے کئی روز پہلے ان کے لیے خوراک اور پانی چھوڑ گئے تھے لیکن یہ چیزیں ختم ہونے کو تھیں۔ مدد کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے امید کھونا شروع کر دی تھی۔ امدادی ٹیموں نے انہیں عمارت سے نکال کر ایمبولینس کے ذریعے آرمینیا پہنچایا۔ 

بڑے پیمانے پر انخلا

آرمینیا کے لیے عالمی ادارہ صحت کی خصوصی نمائندہ ڈاکٹر مارتھی ایویرارڈ نے ہمسایہ ملک آرمینیا میں ہنگامی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نظام صحت کو بڑی تعداد میں آنے والے پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ 

گورس سے واپسی پر جینیوا میں صحافیوں سے زوم پر بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پناہ گزینوں کے علاقوں میں متعدی بیماریوں کی نگرانی اور علاج کی ضرورت ہے۔ نئے آنے والے لوگوں کو بلند فشار خون، زیابیطس، امراض قلب اور کینسر جیسی بیماریوں کا علاج درکار ہے۔اس کے علاوہ خسرے کی ویکسین کی کمی کو پورا کرنے اور ذہنی و نفسیاتی مدد کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ادارہ آرمینیا کی حکومت کی جانب سے جاری جامع امدادی کوششوں میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہے۔ 

طبی کارکنوں کی یکجائی 

ڈاکٹر ایویرارڈ نے بتایا کہ کاراباخ سے آنے والی 2,000 سے زیادہ نرسوں اور 2,200 ڈاکٹروں کو آرمینیا کے ںظام صحت میں شامل کرنے میں بھی مدد دی جا رہی ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے کاراباخ میں تیل کے گوام میں آتشزدگی سے جلنے والے 200 سے زیادہ افراد اور بچوں کے لیے ہنگامی طبی امداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حادثے میں 170 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہنگامی طبی مدد مہیا کرنے والی ڈبلیو ایچ او کی ٹیموں میں جلنے کے زخموں کا علاج کرنے والی خصوصی ٹیم بھی شامل ہے۔ 

ڈاکٹر ایریوارڈ نے کہا ہےکہ ادارے نے طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید خصوصی ٹیمیں تعینات کرنے اور شدید زخمی مریضوں کو بیرون ملک خصوصی ہسپتالوں میں بھجوانے کے لیے بڑے پیمانے پر مدد دینے کی اپیل کی ہے۔