سلامتی کونسل نے ہیٹی میں نئے معاون مشن کی منظوری دے دی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہیٹی بین الاقوامی سکیورٹی فورس تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فورس ملک کی قومی پولیس کو مسلح جتھوں کے تشدد پر قابو پانے اور امن کی بحالی میں مدد دے گی۔
ہیٹی میں سکیورٹی مشن بھیجنے سے متعلق سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 13 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ دو ملک (روس اور چین) رائے شماری کے موقع پر غیرحاضر رہے۔ کثیرملکی سکیورٹی مشن ملک میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، سکولوں، ہسپتالوں اور اہم چوراہوں کی حفاظت میں مدد دے گا۔
یہ اقوام متحدہ کا مشن نہیں ہو گا اور اسے ہیٹی میں لاکھوں ضرورت مند لوگوں کی انسانی امداد تک بلارکاوٹ اور محفوظ رسائی یقینی بنانے میں مدد دینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
معاون مشن کی درخواست
ملک میں مہینوں سے جاری بدنظمی اور متواتر خراب ہوتے حالات کو دیکھتے ہوئے ہیٹی کی حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ملک میں سکیورٹی مشن بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ رواں سال ہی ملک میں قتل کے 3,000 اور اغوا برائے تاوان کے 1,500 سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں اور ابتری سے شہری زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
تقریباً دو لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ مسلح جتھوں کے ہاتھوں خواتین اور لڑکیوں پر جنسی تشدد اور ان سے بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان حالات میں ہزاروں بچوں کے حصول تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔
یکجہتی کی کارروائی
ہیٹی کے وزیر خارجہ جین وکٹر جینیس نے سلامتی کونسل میں یہ تاریخی قرارداد کو پیش کرنے اور اس کی حمایت کرنے پر سفراء کا شکریہ ادا کیا۔ ہیٹی اس وقت سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہے۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس معاون مشن کا قیام عمل میں لانے میں دلچسپی لیں تاکہ ملک میں ایک محفوظ اور مستحکم ماحول کی بحالی کے ساتھ ساتھ جمہوری اداروں کو دوبارہ قائم کیا جا سکے۔
ہیٹی میں انسانی حقوق کی صورتحال
ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال گینگ وار میں ہوئے وحشیانہ حملوں سے متاثر ہوئی ہے جن میں قتل، اغواء اور اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ مسلح گروہوں کے ہاتھوں شہریوں کے خلاف مسلح تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مسلح گروہ چھتوں سے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کرنے کے لیے جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں، بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور گھروں کو جلانے کے نتیجے میں ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مسلح جتھے اپنی دہشت پھیلانے کے لیے خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہیں جن میں اجتماعی جنسی زیادتی سمیت جنسی تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم قومی ادارے قانون کی حکمرانی دوبارہ قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ ہیٹی میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں نیشنل پولیس کو ضروری مدد درکار ہوگی، جو توقع کی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کیا جانے والا مشن فراہم کرے گا۔