انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کاراباخ سے آرمینیائی لوگوں کی اکثریت علاقہ چھوڑ گئی ہے: یو این مشن

ایک گہرے رنگ کی کار سامان سے بہت زیادہ لدی ہوئی ہے، جس میں چھت پر بڑے نیلے رنگ کے تار اور ٹرنک میں بیگ شامل ہیں۔ لوگ ایک سڑک پر پس منظر میں دکھائی دے رہے ہیں۔
© WHO/Nazik Armenakyan ایک اندازے کے مطابق کاراباخ سے ایک لاکھ افراد آرمینا پہنچے ہیں۔

کاراباخ سے آرمینیائی لوگوں کی اکثریت علاقہ چھوڑ گئی ہے: یو این مشن

انسانی امداد

آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین متنازع علاقے کاراباخ سے حالیہ نقل مکانی کے بعد وہاں آرمینیائی نسل کے 50 سے 1,000 تک لوگ باقی رہ گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مشن کو علاقے میں تباہی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے کاراباخ میں حالات کا جائزہ لینے کے لیے آغڈیم سے خانکینڈی تک سفر کیا جسے آرمینیائی نسل کے لوگ سٹیپاناکرٹ بھی کہتے ہیں۔  مشن کوان علاقوں میں ہسپتالوں، سکولوں، گھروں اور ثقافتی و مذہبی عمارات کا کوئی نقصان دکھائی نہیں دیا اور تمام دکانیں بند ملیں۔

Tweet URL

30 سال کے عرصہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے میں اقوام متحدہ کے کسی مشن کی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔

’خدمات کی بحالی‘

آزربائیجان میں اقوام متحدہ کے رابطہ کار کی قیادت میں کام کرنے والے اس مشن کے مطابق مقامی آبادی کی نقل مکانی اور اس طرح سفر کی تکالیف جھیلنا اس کے لیے غیرمتوقع ہے۔ اگرچہ مشن کو دیہی علاقوں تک رسائی نہیں ملی تاہم زراعت اور مویشیوں کے نقصان کی بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

مشن نے بتایا ہے کہ آزربائیجان کی حکومت علاقے میں طبی خدمات اور مخصوص سہولیات کی بحالی کے اقدامات کر رہی ہے۔

لاچن روٹ

اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے لاچن کے راستے سے سرحد تک سفر بھی کیا۔ یہی وہ راستہ ہے جسے حالیہ دنوں آرمینیائی نسل کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کے لیے اختیار کیا تھا۔ مشن کو اس دوران آرمینیا جانے والی کوئی سویلین گاڑیاں دکھائی نہیں دیں۔ 

اقوام متحدہ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا مقامی آبادی علاقے میں واپس آنا چاہتی ہے یا نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ تنازعے کے فریقین میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے وقت اور دونوں جانب سے کوششیں درکار ہوں گی۔ 

مشن نے مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوششیں کرنے کو کہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آزربائیجان میں اقوام متحدہ کی ٹیم علاقے میں باقی ماندہ آبادی کو سہولیات فراہم کرنے اور واپسی کے خواہاں لوگوں کو آزربائیجان کی حکومت کے تعاون سے مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ 

آرمینیا کی صورتحال

عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے ترجمان جو لوارے نے آرمینیا کے دارالحکومت ییریوان سے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ نقل مکانی کر کے آنے والوں میں شامل معمر افراد اور بچوں میں غذائی قلت کی اطلاعات ہیں اور تیز بخار اور نمونیے جیسی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ 

آرمینیا میں اقوام متحدہ کی ٹیمیں حکومت کے تعاون سے پناہ گزینوں کو ذہنی صحت کی خدمات مہیا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ سوموار کو آئی او ایم نے دو موبائل کلینک کھولے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں ایسے چار مزید کلینک کام شروع کر دیں گے۔

تعلیمی ضروریات

آرمینیا میں سرحدی قصبے گورس میں آنے والے پناہ گزینوں کی اکثریت ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئی ہے۔ لوارے نے کہا کہ ان لوگوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے کمرہ ہائے جماعت میں گنجائش بڑھانا کافی نہیں ہو گا بلکہ نئے سکول بنانے یا پرانے سکولوں میں توسیع کی ضرورت پڑے گی اور ہسپتالوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کو روزگار اور رہائش کے حصول میں بھی مدد کی ضرورت ہو گی جبکہ ان کے میزبان علاقوں کے لیے بھی امداد درکار ہے۔