انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مہاجرین کو مسئلے کی بجائے ترقی کا ذریعہ سمجھیں: ایمی پوپ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ۔
© IOM
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ۔

مہاجرین کو مسئلے کی بجائے ترقی کا ذریعہ سمجھیں: ایمی پوپ

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کی نئی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ مہاجرین اور پناہ گزین سب سے پہلے انسان ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کو انہیں اپنے لیے مسئلے کے بجائے ترقی کی رفتار تیز کرنے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔

ادارے کی نئی سربراہ کی حیثیت سے جینیوا کے اپنے پہلے دورے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے رواں سال ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

Tweet URL

ان کے علاوہ لاکھوں لوگ موسمیاتی اعتبار سے انتہائی غیرمحفوظ ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔ مسلح تنازعات، مظالم اور لاطینی امریکہ سے یورپ، ایشیا اور افریقہ تک دنیا بھر کو غیرمستحکم کرنے والے دیگر مسائل کی موجودگی میں مہاجرت کے جلد ختم ہو جانے کا کوئی امکان نہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جب تک دولت مند ملک ان لوگوں کو خشک سالی اور دیگر موسمیاتی مسائل سے نمٹنے میں مدد نہیں دیتے اور مہاجرت سے حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے اس وقت تک دنیا مزید بہت سے مایوس لوگوں کو نقل مکانی کرتا دیکھتی رہے گی۔

ایمی پوپ نے کہا کہ 3 اکتوبر 2013 کو اٹلی کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی الٹنے سے 368 افراد کی ہلاکت کے واقعے کو 10 برس ہو گئے ہیں۔ اس دوران ادارے کو سب سے بڑا خدشہ یہی لاحق رہا ہے کہ ایسے المیے معمول بن جائیں گے۔ 

"لیمپیڈوسا میں پیش آنے والے اس واقعے کی برسی اس بات کو سمجھنے اور یاد کرنے کا اہم موقع ہے کہ بالآخر یہ انسانوں کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ مہاجرین یا پناہ گزینوں سے پہلے انسان ہیں اور ان کی زندگی کی قدر ہونی چاہیے۔ ان کے وقار کو تسلیم کرنا ہمارے ہر قول و فعل اور ہر رکن ملک کے ساتھ ہمارے کام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔"

افرادی قوت کے مسئلے کا حل 

موسمیاتی تبدیلی، جنگوں، روزگار کی تلاش میں مسائل، اندرون ملک غیریقینی  مستقبل اور ہمسایہ ممالک یا معاشروں میں تشدد جیسے مسائل کا سامنا کرنے والے لوگوں کی بہت بڑی تعداد دنیا میں کسی اور جگہ بہتر مستقبل ڈھونڈنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ان لوگوں کے میزبان ممالک کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کا ان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے۔ 

ڈائریکٹر جنرل سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے گزشتہ مہینے وینزویلا کے 470,000 غیررجسٹرڈ لوگوں کو اپنے ملک میں قانونی طور پر کام کی اجازت دینے سے مہاجرت کی حوصلہ افزائی ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ میں نوکریاں نہ ہوتیں تو لوگ وہاں نہ آتے۔ 

انہوں نے کہا کہ اسی لیے ادارہ برائے مہاجرت کا مقصد نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے مزید باقاعدہ اور حقیقی راستے پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے عالمی بینک کی رپورٹ کے نتائج کا حوالہ بھی دیا جس میں واضح کیا گیا ہےکہ کیسے مہاجرت غربت میں کمی لانے کی موثر قوت کے طور پر کام کرتی ہے۔

ایمی پوپ کا کہنا تھا کہ دنیا کی کم از کم 30 بڑی معشیتوں کو صحت، زراعت، تعمیرات اور میزبانی کے شعبے میں ملازمین کی تعداد پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت ترقی ہو رہی ہے تاہم اس ترقی کی رفتار افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے کافی نہیں اور فی الوقت مشین ایسی بہت سی نوکریوں کا کوئی زیادہ بہتر متبادل نہیں ہے۔

قطر کی ایک زیر تعمیر عمارت پر تارکین وطن کارکن کام کر رہے ہیں۔
© ILO/Apex Image
قطر کی ایک زیر تعمیر عمارت پر تارکین وطن کارکن کام کر رہے ہیں۔

سپین کی مثال 

ایمی پوپ نے سپین کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کہ وہاں کی حکومت نے مہاجرین کے ذریعے افرادی قوت کے مسائل پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑی تعداد میں مہاجرین آئے ہیں وہاں یہ دیکھا گیا ہےکہ اس کی بدولت لوگوں کے حالات زندگی میں بہتری آئی ہے خواہ اس کی وجہ مہاجرین کے ذریعے اختراع میں ترقی ہو، افرادی قوت کی تعداد میں اضافہ ہو یا معمر افراد کی صحت اور ان کی استعداد کار کی بحالی ہو۔ ہر جگہ مہاجرت مجموعی طور پر فائدہ مند ہی ثابت ہوئی ہے۔

آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل آئندہ ہفتے کینیا، صومالیہ اور جیبوتی کے دورے کے بعد افریقن یونین کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے ادیس ابابا جائیں گی۔ 

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 80 فیصد سے زیادہ مہاجرت افریقہ میں ہوتی ہے اور اپنے دورے میں وہ اس موضوع پر حکومتوں کے ساتھ بات کرنے کے علاوہ مقامی لوگوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں نجی شعبے سے بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس نوکریاں تو ہیں لیکن افرادی قوت کی کمی ہے اور اس شعبے کا تقاضا ہے کہ رسمی ضابطوں میں آسانی لا کر اسے افرادی قوت کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دی جائے۔