کاراباخ بحران: یو این کی طرف سے جھلسنے والوں کو طبی امداد کی فراہمی
آرمینیا کے علاقے گوریس میں عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کاراباخ سے آنے والے پناہ گزینوں کو مدد دینے کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ہنگامی طبی امداد مہیا کر رہی ہے جو گزشتہ ہفتے تیل کے ڈپو میں آگ لگنے سے بری طرح جھلس گئے تھے۔
کاراباخ میں لڑائی کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کے راستے میں واقع تیل کے ڈپو میں سوموار کو دھماکے سے آگ لگ گئی تھی۔ اس حادثے میں 170 سے زیادہ لوگ ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے۔ ان میں بہت سے لوگوں کو جلنے کے شدید زخم آئے جن کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
دل شکن مناظر
ڈبلیو ایچ او کے خصوصی نمائندے راب بٹلر نے آرمینیا کے دارالحکومت ییریوان میں اس طبی مرکز کا دورہ کیا جہاں ان زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرعلاج لوگوں کی تکالیف دل شکن ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 80 بستروں کے اس ہسپتال میں ہر بستر پر کاراباخ دھماکے کا کوئی نہ کوئی زخمی زیرعلاج ہے۔ طبی کارکن ان لوگوں کا علاج کرنے اور ان کی صحت بحال کرنے لیے کڑی محنت کر رہے یہں لیکن یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں طبی صلاحیت محدود اور ضروریات بہت زیادہ ہیں۔
عالمی ادارہ صحت ان زخمیوں کے لیے مخصوص طبی سامان لا رہا ہے اور جلنے کے زخموں کا علاج کرنے والے خصوصی معالجین کی تعیناتی کا اہتمام کرنے میں مصروف ہے۔ ادارہ یہ تخمینہ بھی لگا رہا ہے کہ وسط اور طویل مدتی طور پر ان لوگوں کی بہترین طور سے بحالی کیسے ممکن ہے۔
ضروریات کی تکمیل
ڈبلیو ایچ او اس حادثے کے متاثرین کی امداد کے علاوہ پناہ گزینوں کو ضروری طبی خدمات بشمول ذہنی صحت کا علاج اور نفسیاتی مدد بھی مہیا کر رہا ہے۔
ادارہ پہلے سے تیار شدہ کلینک قائم کرنے اور آرمینیا کی حکومت کو طبی عملے بشمول کاراباخ سے آنے و الے 300 ڈاکٹروں اور 1,200 نرسوں کو طبی نظام کا حصہ بنانے میں بھی مدد دے رہا ہے۔ ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو آرمینیا کے بنیادی طبی مراکز اور ہسپتالوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او غیرمتعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ادویات بھی بھیج رہا ہے جن سے تقریباً 50,000 افراد کو تین ماہ تک علاج مہیا کیا جا سکے گا۔
اقوام متحدہ کے مربوط اقدامات
تازہ ترین اندازوں کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد کاراباخ سے آرمینیا آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تیمیں حکام اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان پناہ گزینوں کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے گورس میں بچوں کے لیے محفوظ جگہ بنائی ہے جہاں تقریباً 300 بچوں اور ان کے والدین کو روزانہ خدمات مہیا کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں بچوں کے کھیلنے، ماؤں کے لیے چھوٹے بچوں کو اپنا دودھ پلانے اور شدید نوعیت کے طبی خدشات کے حوالے سے بچوں کو طبی مدد دینے کی سہولیات بھی قائم کی گئی ہیں۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) لوگوں کو گرم کھانا، خوراک کے پیکٹ اور کھانا حاصل کرنے کے کارڈ مہیا کر رہا ہے جبکہ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) پناہ کے خواہش مند لوگوں کی رجسٹریشن کے لیے حکومت کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ سمیت تکنیکی سازوسامان دے رہا ہے۔
اس نے پناہ گزینوں کے لیے تہہ کیے جانے والے بستر اور گدوں سمیت ضروری امدادی اشیا بھی مہیا کی ہیں۔