ہیٹی کیوں ایک نئے بین الاقوامی مشن کا مطالبہ کر رہا ہے؟
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس ہفتے ہیٹی میں امن و امان کے قیام میں مدد دینے کے لیے کثیرملکی سکیورٹی مشن کی تشکیل پر بات چیت کر رہی ہے۔ غرب الہند کے اس ملک کو جرائم پیشہ مسلح جتھوں کی جانب سے تشدد اور عدم تحفظ کے متواتر بحران کا سامنا ہے۔
ہیٹی کے وزیراعظم ایریل ہنری نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ملک میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے کہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں روزانہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین اور لڑکیوں، اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہزاروں خاندانوں، تعلیم و تربیت کے حق سے محروم کیے جانے والے بچوں اور نوعمر افراد اور مسلح جتھوں کے مظالم کے تمام متاثرین کی خاطر وہ عالمی برادری سے فوری اقدامات کے لیے کہتے ہیں۔
ہیٹی کے معاملے میں مستقبل کے حوالے سے درج ذیل باتوں سے آگاہی ضروری ہے:
ہیٹی میں بین الاقوامی سکیورٹی مشن کی موجودگی کیوں ضروری ہے؟
ہیٹی اس وقت تشدد کی لپیٹ میں ہے جس میں غیرمعمولی حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ رواں سال یکم جنوری سے 9 ستمبر تک ملک میں قتل کے 3,000 واقعات رپورٹ ہوئے اور اغوا برائے تاوان کے 1,500 سے زیادہ واقعات سامنے آئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 200,000 افراد (جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے) اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ وہاں رہنا بہت خطرناک ہو چکا ہے۔
خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد اور بدسلوکی عروج پر ہے اور ہزاروں بچے عدم تحفظ کے باعث سکول نہیں جا سکتے۔
ہیٹی کی فوج چھوٹی ہے جس کے پاس جدید اسلحہ اور سازوسامان نہیں ہے۔ ہیٹی کی قومی پولیس (ایچ این پی) تشدد پر پوری طرح قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتی اور اسے بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے تاکہ ہیٹی کے لوگوں کی زندگی میں استحکام واپس آ سکے اور وہ قتل، بے گھری، اغوا یا جنسی زیادتی کےخطرے سے بے نیاز ہو کر زندگی گزار سکیں۔
سکیورٹی میں تعاون کے اقدام میں کون مدد دے رہا ہے؟
سبھی کا اس پر اتفاق ہے کہ ہیٹی میں قومی پولیس کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد درکار ہے۔ اکتوبر 2022 مین وزیراعظم ہنری نے دنیا کے ممالک سےکہا تھا کہ وہ مدد کے لیے آگے آئیں۔ اس کے بعد جولائی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کا دورہ کیا جس میں انہوں نے وزیراعظم کے اسی مطالبے کو دہرایا ۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی فوری اور پائیدار توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں ہیٹی میں تشدد کے متاثرین اور شہری آبادی کو اپنے خدشات اور ترجیحات میں مرکزی اہمیت دینا ہو گی۔ اگر ہیٹی کی ابھی مدد نہیں کی جاتی تو عدم استحکام اور تشدد کے اثرات آئندہ نسلوں تک باقی رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام شراکت داروں سے کہتے ہیں کہ وہ ہیٹی کی قومی پولیس کی مالی مدد، تربیت یا اسے سازوسامان کی فراہمی کی صورت میں اپنی معاونت میں اضافہ کریں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں یہ مسئلہ ایک مرتبہ ایجنڈے پر نمایاں تھا۔
اس موقع پر امریکہ کے صدر بائیڈن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہیٹی کے لوگ مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ ڈومینیکن ریپبلک کے صدر روڈولفو ایبیناڈیر کورونا نے ہیٹی کے لیے مزید محفوظ، مشمولہ اور مستحکم مستقبل تشکیل دینے کے لیے دنیا کے اجتماعی عزم کی تجدید کے لیے کہا۔ واضح رہے کہ ہسپانیولا نامی جزیرہ ڈومینیکین ریپبلک اور ہیٹی کی مشترکہ ملکیت ہے۔
سکیورٹی مشن کی تشکیل میں طویل تاخیر کا سبب کیا ہے؟
اس حوالے سے ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ کون سا ملک اس پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور مشن کی قیادت کے لیے آگے آئے گا۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جتھوں کی دارالحکومت کے تقریباً 80 فیصد حصے پر عملداری ہے اور ہیٹی کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 162 مسلح گروہ سرگرم ہیں جن کے ارکان کی تعداد 3,000 ہے۔
جولائی کے اواخر میں کینیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہیٹی میں کثیرملکی سکیورٹی مشن کی قیادت کرنے پر غور کر رہا ہے۔ کینیا کے حکام نے اس سلسلے میں ہیٹی کا دورہ بھی کیا اور وہاں حکومت اور علاقائی رہنماؤں سے بات چیت کی تاکہ مشن کی ذمہ داری اور اس کی وسعت طے کی جا سکے۔
کینیا کے صدر ولیم روٹو نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہیٹی کے لوگ غلامی، استعمار، تخریب اور لاپروائی کی تلخ میراث سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ایسے حالات سے نمٹنا بین الاقوامی یکجہتی اور اجتماعی اقدام کا بنیادی امتحان ہو گا۔
غرب الہند کے دیگر ممالک اور علاقائی گروپ 'کیریکوم' بشمول جمیکا، بہاماز اور اینٹی گوا اینڈ بارباڈوا نے اس مشن کے لیے تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
ہیٹی میں سکیورٹی کارروائی کس نوعیت کی ہو گی؟
یہ بات اہم ہے کہ ہیٹی میں سکیورٹی مشن اقوام متحدہ کی کارروائی نہیں ہو گی اور یہ ملک میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے مشن 'مینوسٹاہ' سے مختلف ہو گی جس کا اختتام 2017 میں ہوا تھا۔
وزیراعظم ہنری نے ملک کی قومی پولیس کے اہلکاروں کو مضبوط تعاون فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلح جتھوں کو شکست دینے، نظم کی بحالی اور ریاستی امور کی مناسب طور سے انجام دہی کے لیے یہ مدد ناگزیر ہے۔
کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بتایا کہ اس مشن میں کینیا کے 1,000 اہلکار شامل ہو سکتے ہیں اور یہ ضروری وسائل سے آراستہ اور موثر ہو گا۔
آئندہ کیا ہو گا اور ہیٹی میں سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کیا کردار ادا کرے گا؟
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس مشن کے طریقہ کار کی تیاری اور اس کی منظوری دینے کے لیے اجلاس کرے گی۔ 15 رکنی کونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت یہ منظوری دینا ہے۔ ایسا ان حالات میں کیا جاتا ہے جب بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر تمام اقدمات ناکام ہو جائیں اور طاقت کا استعمال ناگزیر ہو۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کئی محاذوں پر ہیٹی کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ 'بی آئی این یو ایچ' نامی سیاسی مشن حکومت کو ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے اور اچھی حکمرانی اور نفاذ قانون میں مدد دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے ہیٹی میں تشدد، عدم استحکام اور قدرتی آفات جیسا کہ 2021 میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو فوری انسانی امداد مہیا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سرکاری حکام اور اداروں کو طویل مدتی ترقیاتی فوائد کی بحالی میں بھی مدد مہیا کی جا رہی ہے۔ اس میں مشمولہ معیشت اور انصاف کے اہتمام کو مضبوط کرنا، بنیادی سماجی خدمات کی فراہمی اور ان تک رسائی کو یقینی بنانا اور کثیرجہتی خدشات سے نمٹنے کے اہتمام میں بہتری لانا بھی شامل ہے۔