پاکستان: بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی سیکرٹری جنرل کی طرف سے مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جمعہ کو پاکستان میں ہوئے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ مذہبی تقریبات میں شریک پرامن شہریوں کو نشانہ بنانا ایک گھناؤنا فعل ہے۔
انہوں نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوششوں میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی طرف سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کو عید میلاد النبی کے موقع پر صوبہ بلوچستان کے شہر مستونگ اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے ہنگو میں ہوئے بم دھماکوں میں پچپن سے زیادہ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستانی میڈیا کے ذریعے آنی والی خبروں کے مطابق مستونگ میں مبینہ طور پر ایک خودکش بمبار نے پیغمبر اسلام کے جشن ولادت کے حوالے سے نکلنے والے سینکڑوں افراد کے جلوس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو مستونگ کے ضلعی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ان میں وہ زخمی جن کی حالت نازک تھی انہیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔
ہنگو میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں میڈیا اطلاعات کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہنگو کی مسجد پر بھی خودکش بمبار نے حملہ کیا۔