لیبیا: سیلابوں سے جنم لینا والا المیہ ابھی ختم نہیں ہوا، یونیسف
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی لیبیا میں آنے والے افریقہ کی معلوم تاریخ کے سب سے تباہ کن سمندری طوفان کے بعد 16,000 بچے بے گھر ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر نفسیاتی۔سماجی مدد درکار ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی بنیادی خدمات کی کمی کے باعث مزید بچوں کے ذہنی مسائل سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ملک میں یونیسف کی ریجنل ڈائریکٹر آڈیل خودر نے سمندری طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں البیضا اور درنہ کے دورے سے واپسی کے بعد کہا ہے کہ جب قدرتی آفات آتی ہیں تو بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
تباہ کن سیلاب
10 ستمبر کو سمندری طوفان ڈینیئل لیبیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلابی کیفیت پیدا ہوئی اور درنہ، البیضا، سوسۃ، المرج، شحات، تاکنس، بطۃ، طلمیثۃ، برسس، توکرۃ اور الابیار میں تباہی پھیل گئی۔
موسلا دھار بارشوں اور دو ڈیم ٹوٹنے سے ساحلی شہر درنہ میں سیلاب آ گیا جو پورے کے پورے علاقوں کو بحیرہ روم میں بہا لے گیا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیلاب سے قریباً 4,000 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 9,000 تاحال لاپتہ ہیں۔
اگرچہ لاپتہ افراد کو مردہ تصور کر لیا گیا ہے تاہم ان کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں یا سمندر برد ہو چکی ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی امید رکھے ہوئے ہیں کہ ان کے عزیز زندہ ہو سکتے ہیں۔ تباہ کن سیلاب کے بعد بعض بے گھر خاندان سکولوں میں پناہ لیے بیٹھے ہیں۔
یونیسف اس سانحے کے آغاز سے ہی حکام اور اپنے شراکت داروں کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کی ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں کر رہا ہے۔
سانحے کی خوفناک یاد
آڈیل خودر کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی نے بچوں اور خاندانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہ ایسے خاندانوں سے ملیں جو کڑا نفسیاتی۔سماجی دباؤ جھیل رہے ہیں اور انہوں نے ایسے بچوں سے بات کی جو شدید تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بچے سو نہیں سکتے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے اور کھیلنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس کی یاد اب بھی ان کے ذہن اور خیالات پر حاوی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے اور سکول کھولنے، بچوں کو نفسیاتی۔سماجی مدد دینے، بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیرنو اور پانی کے نظام کو بحال کرنے میں مدد دی جائے۔ یہ المیہ ابھی ختم نہیں ہوا اور درنہ اور البیضا کے بچوں کو بھلایا نہیں جانا چاہیے۔
مدد کی پکار
اس آفت میں ہلاک ہونے والے بچوں کی مصدقہ تعداد اب تک سامنے نہیں آئی تاہم ملکی آبادی میں بچوں کی 40 فیصد تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو یونیسف کو خدشہ ہےکہ سیکڑوں بچے سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔
صحت و تعلیم کی سہولیات کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو ایک مرتبہ پھر پڑھائی میں خلل آنے اور مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ لاحق ہے۔ متاثرہ علاقے میں 117 سکولوں میں سے چار پوری طرح تباہ ہو گئے جبکہ 80 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
پانی کی فراہمی میں مسائل، آبی ذرائع اور نکاسی آب کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اندازے کے مطابق صرف درنہ میں ہی 50 فیصد آبی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
یونیسف کے امدادی اقدامات
یونیسف اس بحران کے دوسرے دن سے مشرقی لیبیا میں بچوں کی فعال طور سے مدد کر رہا ہے۔ متاظرہ علاقوں میں 65 میٹرک ٹن امدادی سامان پہنچایا جا چکا ہے جس میں 50 ہزار لوگوں کی تین ماہ کی ضروریات کے لیے طبی سازوسامان، تقریباً 17,000 لوگوں کے لیے صحت و صفائی کا سامان، 500 بچوں کے لیے موسم سرما کے کپڑے، بچوں کو اجتماعی طور پر تعلیم دینے کے سامان کے 200 تھیلے اور پانی صاف کرنے والی 32,000 گولیاں شامل ہیں۔
یونیسف نے بچوں کو تحفظ اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے والی متحرک ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجی ہیں۔
آڈیل خودر کا کہنا ہے کہ تحفظ زندگی میں مدد کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے حکام اور عطیہ دہندگان سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ متاثرین کی بحالی کے لیے مساوی، مستحکم اور بچوں پر مرتکز طویل مدتی سرمایہ کاری کریں۔