معلومات تک رسائی کا حق اکثریت کے لیے محض ’خالی دعویٰ‘
رائے اور اظہار کی آزادی کے بارے میں اقوام متحدہ کی مقرر کردہ ماہر آئرین خان نے حکومتوں سےکہا ہے کہ وہ "ڈیجیٹل تقسیم" کا خاتمہ کرنے کی کوششوں کو بہتر بنائیں اور معلومات کے حق کی راہ میں تمام رکاوٹیں دور کریں۔
28 ستمبر کو منائے جانے والے 'معلومات تک عالمگیر رسائی کے عالمی دن' پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ تمام لوگوں کے عالمگیر اور بامعنی ربط کے بغیر اطلاعات تک رسائی کا حق دنیا کے اربوں لوگوں کے لیے خالی خولی وعدہ ہی رہے گا۔
آن لائن آزادی کی اہمیت رواں برس اس دن کا خاص موضوع ہے۔
آئرین خان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سبھی کے لیے مساوی طور پر دستیاب یا قابل رسائی نہیں ہے۔ یہ موجودہ نابرابریوں کو مزید گہرا کر رہا ہے اور صنف، جغرافیے، قومیت، آمدنی اور ڈیجیٹل خواندگی کے تناظر میں نئی طرح کی عدم مساوات پیدا کرنے کے ساتھ معاشرے کے پسماندہ ترین لوگوں کی بدحالی میں اور بھی اضافہ کر رہا ہے۔
جمہوریت کے لیے 'آکسیجن'
انہوں ںے اطلاعات یا معلومات تک رسائی کے حق کو "آکسیجن" قرار دیا جس کے بغیر جمہوریت اور ترقی ممکن نہیں۔
آن لائن یا آف لائن اطلاعات تک رسائی لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں بہتر آگاہی اور بہتر تیاری کے ساتھ شرکت کے قابل بناتی ہے اور اس طرح معیاری و مستحکم ترقیاتی نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
علاوہ ازیں، شہریوں، سول سوسائٹی اور میڈیا کو حکومتوں اور کمپنیوں سے جواب طلبی کے لیے بااختیار بنانے سے جمہوریت مزید بامعنی ہو جاتی ہے۔
قوانین اور پابندیاں
اپریل میں شائع ہونے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انہوں نے بتایا ہے کہ بہت سے ممالک نے معلومات تک رسائی کے قوانین بنائے ہیں اور بعض ممالک انٹرنیٹ تک رسائی کو بھی لوگوں کا قانونی حق تسلیم کر رہے ہیں۔
تاہم، 'بری خبر' یہ ہے کہ عام طور پر ان قوانین پر موثر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ تحقیقاتی صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سول سوسائٹی کے دیگر نمائندوں کی آن لائن اور آف لائن معلومات تک رسائی محدود کرنے یا انہیں اس سے محروم رکھنے کے لیے کئی طرح کے طریقوں سے کام لیا جاتا ہے۔
آئرین خان نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس میں 74 سے زیادہ ممالک کی حکومتوں نے انٹرنیٹ کو بند یا سست کیا یا مختصر اور طویل مدت کے لیے موبائل فون کے رابطوں میں رکاوٹ ڈالی۔
ان اقدامات سے معلومات تک رسائی متاثر ہوئی اور صحت، تعلیم و دیگر ضروری خدمات میں خلل پڑا۔
آئرین خان کا کہنا ہے کہ خواہ موسمیاتی تبدیلی اور وباؤں جیسے عالمگیر مسائل پر قابو پانا ہو یا تفریق، اخراج اور تشدد کے قدیم سلسلے کا خاتمہ کرنا ہو، اس کے لیے اطلاعات اور اظہار کی آزادی اور اس عمل میں نوجوانوں، سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا کی فعال شرکت ضروری ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے اہم
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اور اطلاعات تک عالمگیر اور آسان رسائی 'پائیدار ترقی کے اہداف' (ایس ڈی جی) میں واضح طور پر شامل ہیں جو کہ مزید منصفانہ اور مساوی دنیا کا خاکہ ہے۔
گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نیویارک میں جمع ہوئے جنہوں نے اس موقع پر ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد 2030 کے حتمی عرصہ تک ان اہداف کی تکمیل ممکن بنانے کے عزم کو مضبوط کرنا تھا۔
انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس میں کیے گئے وعدوں کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کریں۔
آئرین خان جیسے خصوصی اطلاع کاروں کا تقرر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کرتی ہے جن کا کام انسانی حقوق سے متعلق مخصوص موضوعات یا کس ملک کے حالات کی نگرانی کرنا ہے۔
یہ اطلاع کار اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی نہیں لیتے۔