یو این ایچ سی آر کو پناہ گزینوں کی کاراباخ سے آرمینیا آمد پر تشویش
پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کےا دارے (یو این ایچ سی آر) نے کاراباخ خطے میں جاری لڑائی کے باعث ہزاروں شہریوں کی آرمینیا کی جانب نقل مکانی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 19 ہزار پناہ گزین آزربائیجان کے کاراباخ اقتصادی خطے سے نکل گئے ہیں جن میں معمر افراد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
'یو این ایچ سی آر' کی ترجمان شابیہ منٹو نے فریقین سے کہا ہےکہ وہ شہریوں کو تحفظ دیں اور پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہوئے انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں۔
جینیوا میں صحافیوں کو معمول کی بریفنگ کے موقع پر ںے کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے پرہیز کریں جن سے شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے اور ان کے تحفظ، سلامتی اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔ علاوہ ازیں کسی کو بھی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
سیکرٹری جنرل کا اظہار تشویش
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل کو لوگوں کے بے گھر ہونے پر سخت تشویش ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بے گھر آبادیوں کے حقوق کا تحفظ اور انہیں انسانی مدد کی فراہمی ضروری ہے۔
سٹیفن ڈوجیرک نے کہا کہ اگرچہ اس موقع پر اقوام متحدہ متاثرہ علاقے میں امدادی کاموں میں شامل نہیں ہے تاہم آرمینیا میں اس کا امدادی رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) موجود ہے۔
آرمینیا اور آزربائیجان کے مابین ناگورونو کاراباخ خطے پر تنازع تین دہائیاں پرانا ہے تاہم تین سال پہلے چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد جنگ بندی اور اس کے بعد دونوں ممالک اور روس کے مابین سہ فریقی سمجھوتہ عمل میں آیا تھا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں وہاں کئی ہزار روسی امن اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے لڑائی میں آنے والی تیزی اور آرمینیا میں پہلے پناہ گزینوں کی آمد کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ضرورت مند لوگوں تک مکمل رسائی مہیا کرنے کے لیے کہا تھا۔
کشیدگی میں کمی کا مطالبہ
انتونیو گوتیرش نے کشیدگی میں کمی لانے کا پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے 2020 کی جنگ بندی اور بین الاقوامی انسانی قانون پر سختی سے قائم رہنے پر زور دیا ہے۔
اسی مطالبے کو دہراتے ہوئے شابیہ منٹو نے کہا کہ پیچیدہ اور کثیرالثقافتی حالات میں بین الاقوامی تحفظ کے ضرورت مند لوگوں کی پناہ تک رسائی قائم رہنی چاہیے تاکہ لوگوں کے ساتھ انسانی برتاؤ اور ان کے حقوق کا تحفظ و احترام یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تحفظ کے خواہاں لوگوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی مدد کرنا بھی ضروری ہے۔
شابیہ منٹو نے قانونی قیام کے متبادل طریقے مہیا کرنے اور ایسے لوگوں کے لیے باقاعدہ اور محفوظ راستوں کو وسعت دینے کے لیے بھی کہا ہے جو کشیدگی زدہ علاقے میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے اور اس طرح کی رکاوٹوں اور دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتے۔
بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقائی اقدامات بین الاقوامی یکجہتی اور تمام ممالک اور فریقین کی جانب سے مرتکز کوششوں کا تقاضا کرتے ہیں۔
شابیہ منٹو کا کہنا تھا کہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں کو صدمے اور تھکن کا سامنا ہے اور انہیں فوری نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمینیا کی حکومت امدادی اقدامات کر رہی ہے اور متوقع طور پر عالمی برادری سے مزید مدد کے لیے کہے گی۔
'او سی ایچ اے' نے بھی متاثرین کے لیے مدد فراہم کی ہے جس میں غیرغذائی اشیا، سفری بستر اور گدے شامل ہیں۔ ان لوگوں کو پناہ، گرم کپڑے اور دیگر ضروری غیر غذائی اشیا بھی درکار ہیں۔ ان کے لیے مزید مدد جمع کی جا رہی ہے اور بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی حکومت اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔