انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین میں روسی افواج کی طرف سے جنسی زیادتی اور تشدد جاری، رپورٹ

ایک سرخ اور سفید ان لائن اسکیٹ تباہ شدہ عمارت میں ملبے اور ملبے کے درمیان ہے۔
© WFP/Anastasiia Honcharuk اقوام متحدہ کا کہنا ہے شواہد بتاتے ہیں کہ روس یوکرین میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

یوکرین میں روسی افواج کی طرف سے جنسی زیادتی اور تشدد جاری، رپورٹ

انسانی حقوق

انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کے بارے میں نئی رپورٹ شائع کی ہے جس کے بعد روسی افواج کو جنگی جرائم کے نئے الزامات کا سامنا ہے۔

یوکرین کے بارے میں غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن کے ارکان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا ہے کہ انہوں نے رہائشی عمارتوں، شہری تنصیبات اور طبی مراکز پر دھماکہ خیز اسلحے سے حملوں کی تفصیلات جمع کی ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد و جنسی زیادتی اور صںفی بنیاد پر تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

Tweet URL

جنسی زیادتی کے الزامات

کمیشن کے سربراہ ایرک موز نے کونسل کو ایسے واقعات کی ہولناک تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یوکرین کےعلاقے کیرسون میں روس کے فوجیوں نے 19 سے 83 سال تک عمر کی خواتین کے سات جنسی زیادتی یا دیگر جنسی جرائم کا ارتکاب کیا اور ایسے مواقع پر عموماً ان کے اہلخانہ کو ملحقہ کمرے میں رکھا گیا تاکہ وہ یہ سب کچھ ہوتا سن سکیں۔  

بڑے پیمانے پر تشدد 

کمیشن نے بتایا کہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ کیرسون اور ژیپوریژیزیا میں روسی فوج کی جانب سے یوکرین کی فوج کے مخبر قرار دیے جانے والے افراد کو بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایسے بعض واقعات میں قیدیوں کی موت بھی واقع ہو گئی۔

ایرک موز نے تشدد سے متاثرہ ایک شخص کے حوالے سے بتایا کہ جب بھی اس نے روس کی فوج کو یہ بتایا کہ وہ کچھ نہیں جانتا یا اسے کچھ یاد نہیں ہے تو اسے بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں کہ ایسا کب تک ہوتا رہا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ تشدد کا یہ سلسلہ لامتناہی تھا۔ 

بچوں کی ملک بدری کی تحقیقات

کمیشن کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ روس کے حکام کی جانب سے یوکرین کے بچوں کی روس بدری کے انفرادی واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معاملہ ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ 

نسل کشی کی ممکنہ ترغیب 

کمیشن نے یوکرین میں نسل کشی کے الزامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ روس کے ریاستی اور دیگر ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی بعض باتیں نسل کشی کی ترغیب کی ذیل میں آ سکتی ہےاور ایسے معاملات پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ 

احتساب کا مطالبہ 

انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان معاملات پر روس سے پوچھی گئی باتوں کا کوئی جواب نہیں آیا۔ 

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یوکرین کے حکام پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی افواج کی جانب سے ایسے چند واقعات کی فوری اور مفصل تحقیقات کریں۔ 

جنیوا میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کمیشن کے ارکان نے کہا کہ دونوں جانب سے حقوق کی پامالیوں کے واقعات کی تعداد ایک سی نہیں ہے۔

ایرک موز کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے ایسے واقعات کی نوعیت، شدت اور تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ یوکرین میں اندھا دھند حملوں اور روسی قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات کی چند ہی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ 

مزید مفصل تحقیقات 

تازہ ترین صورتحال کی تفصیلات کمیشن کی دوسری مدت کے دوران ہونے والی تحقیقات کا احاطہ کرتی ہیں جس کا آغاز امسال اپریل میں ہوا تھا۔ 

ایرک موز نے کہا کہ کمیشن دھماکہ خیز ہتھیاروں سے حملوں کے غیرقانونی واقعات، شہریوں کو نشانہ بنانے، تشدد، جنسی زیادتی اور صںفی بنیاد پر تشدد اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی مزید مفصل تحقیقات کر رہا ہے۔  

اس سے یہ وضاحت بھی مل سکتی ہے کہ آیا توانائی کی تنصیبات پر حملے انسانیت کے خلاف جرائم کی ذیل میں آتے ہیں یا نہیں۔ 

انکوائری کمیشن کا تعارف 

یوکرین کی صورتحال پر غیرجانبدار بین الاقوامی انکوائری کمیشن 4 مارچ 2022 کو انسانی حقوق کونسل نے قائم کیا تھا جس کا کام حقوق کی تمام مبینہ خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ اس میں یوکرین کے خلاف روس کے حملے کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالیاں اور متعلقہ جرائم بھی شامل ہیں۔ 

اس کمیشن کے ارکان میں چیئرمین ایرک موز، پبلو ڈی گریف اور وریندا گروور شامل ہیں۔ یہ ماہرین اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔ 

انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ برس اپریل میں تحقیقاتی کمیشن کی اس ذمہ داری میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی تھی۔ اسے اپنی آئندہ رپورٹ اکتوبر میں جنرل اسمبلی کو پیش کرنا ہے۔