انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیدار ترقی کی طرف پیش قدمی تیز کرنے کا یہی وقت ہے: امینہ محمد

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نیویارک کے سنٹرل پارک میں ’گلوبل سٹیزن فیسٹیول‘ سے خظاب کر رہی ہیں۔
UN News/Nathan Beriro
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نیویارک کے سنٹرل پارک میں ’گلوبل سٹیزن فیسٹیول‘ سے خظاب کر رہی ہیں۔

پائیدار ترقی کی طرف پیش قدمی تیز کرنے کا یہی وقت ہے: امینہ محمد

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے مقاصد کی حمایت میں کام کرنے والے ہزاروں افراد، فنکار، بااثر شخصیات اور شہری تیز بارش کے باوجود ہفتے کی رات نیویارک کے معروف سنٹرل پارک میں جمع ہوئے جہاں نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے لوگوں کو تبدیلی کے لیے متحرک ہونے کو کہا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں ہونے والے 'گلوبل سٹیزن فیسٹیول' کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "حالات جیسے بھی ہوں، ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ ہماری اپنی زمین سے وابستگی ہے۔

Tweet URL

'کھیل ہاتھ سے نکلا نہیں' 

انہوں ںے پائیدار ترقی کے 17 اہداف (ایس ڈی جی) تک پہنچنے کی دوڑ، موسمیاتی بحران اور حقیقی صنفی مساوات کے لیے کوششوں پر بات کی۔ 

امینہ محمد کا کہنا تھا کہ ہم جہاں تک پہنچے ہیں اس سے پورے ہفتے رہنماؤں کی ملاقاتوں اور سات سال پہلے کیے گئے وعدوں کی عکاسی ہوتی ہے اور آج ہم اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں جو عظیم فنکار ال پچینو نے کہی تھی کہ 'مقابلے کا نصف وقت گزر گیا ہے، بظاہر ہم ہار رہے ہیں، لیکن کھیل ہمارے ہاتھ سے نکلا نہیں ہے!"

انہوں ںے مین ہٹن کے سرسبز مرکز میں جمع ہونے والے لوگوں سے پوچھا کہ آیا انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ دنیا کو تبدیل کر رہے ہیں؟ "اقوام متحدہ آپ کے ساتھ ہے، ہم دنیا بھر میں لوگوں کو متحرک کر رہے ہیں۔" 

'گلوبل سٹیزن' کا بنیادی مقصد شدید غربت کا خاتمہ کرنا اور اس مقصد کے لیے ان اہداف سے کام لینا ہے جو اقوام متحدہ اور ایس ڈی جی سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ 

اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے زرعی ترقی کے لیے بین الاقوامی فنڈ (آئی ایف اے ڈی) میں 240 ملین ڈالر مہیا کرنے اور برازیل میں ایمیزون کے بارانی جنگلات میں مزید 900,000 ہیکٹر زمین کو تحفظ دینے کے وعدے کیے۔ علاوہ ازیں امریکی کانگریس کے نو ارکان اور برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما کیر سٹریمر نے موسمیاتی حوالے سے اپنے قومی عزائم پر عملدرآمد جاری رکھنے کا عہد کیا۔ 

وعدے پورے کرنے کی جدوجہد 

نائب سیکرٹری جنرل نے تسلیم کیا کہ دنیا میں بہت سے ممالک کو جنگوں اور ناصرف گرم ہوتی بلکہ کھولتی زمین کے باعث "ذہنی و جسمانی" نقصان ہو رہا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کے رہنماؤں کو عالمی اہداف سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں واقعتاً مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اربوں لوگوں سے کیے گئے وعدے ایفا نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ 

اچھی خبر یہ ہے کہ ان اہداف کی تکمیل میں باقی ماندہ سات سال کے دوران بھی کامیابی ممکن ہے اور جب تک بڑھتی حدت پر قابو نہیں پا لیا جاتا اس وقت تک مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ 

'تقسیم کا خاتمہ کریں' 

نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کے رہنماؤں کو ڈیجیٹل تقسیم کا خاتمہ کرنا ہو گا کیونکہ اگر اربوں لوگ خصوصاً لڑکیاں آف لائن اور پس ماندہ رہیں گی تو کامیابی نہیں ملے گی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر اجتماعی کوششوں میں خواتین اور لڑکیوں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے تو گویا ہماری نصف ٹیم کھیل کے میدان میں موجود ہی نہیں ہو گی۔ 

"نیویارک کے لوگو، یہ نازک وقت ہے، تاہم ایسے وقت میں ہی بہادر کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ آئیے 2030 تک عالمگیر اہداف کے حصول کا وعدہ پورا کرنے کے لیے متحد ہوں اور قدم بہ قدم اکٹھے جدوجہد کریں۔