انسانی کہانیاں عالمی تناظر
چین کے نائب صدر ہان زینگ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

عالمی تعاون میں کثیر فریقی نظام بنیادی اہمیت کا حامل: چینی نائب صدر

UN Photo/Cia Pak
چین کے نائب صدر ہان زینگ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

عالمی تعاون میں کثیر فریقی نظام بنیادی اہمیت کا حامل: چینی نائب صدر

اقوام متحدہ کے امور

چین کے نائب صدر ہان زینگ نے کہا ہے کہ عالمی برادری 'طاقت کی سیاست' سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تیزی سے کثیرقطبی صورت اختیار کرتی دنیا کو اپنائے جس میں اقوام متحدہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین ایسے بین الاقوامی نظام کی حمایت کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہو اور غلبے، طاقت کی سیاست، یکطرفہ نظام اور سرد جنگ کی ذہنیت کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں ںے واضح کیا کہ چین کبھی دوسروں پر غلبہ پانے کی کوشش نہیں کرے گا اور چند ممالک کی جانب سے عائد کردہ غیرقانونی اور یکطرفہ پابندیوں سے بین الاقوامی تعلقات میں یکجہتی اور استحکام کو بری طرح نقصان ہو رہا ہے۔ 

ہان زینگ نے عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسے افعال کے خلاف مشترکہ طور پر مزاحمت کرے۔ انہوں ںے زور دیا کہ چین کی بالادستی کی سیاست سے دور رہے گا۔ 

نائب صدر یہ بھی واضح کیا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا واحد مستقل رکن ہے جس نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے روایتی و غیرروایتی دونوں طرح کے ہتھیاروں کے معاملے میں سلامتی برقرار رکھنے کے لیے کہا۔ 

یوکرین میں جنگ 

ہان زینگ نے یوکرین میں امن کے لیے چین کی خواہش کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کی خودمختاری اور علاقائی حدود سے متعلق دعووں کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عداوتوں کو ختم کرنا اور امن بات چیت جاری رکھنا موجودہ بحرانوں کو حل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ رابطے اور بات چیت سلامتی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون ممکن بنانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ 

نائب صدر نے کہا کہ چین یوکرین کے بحران کے پُرامن حل کے لیے تمام موزوں کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور امن کے جلد از جلد حصول کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ 

اپنے ملک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایک ہی چین ہے جس کی نمائندگی پیپلز ریپبلک آف چائنا کی حکومت کرتی ہے۔ 

"تائیون زمانہ قدیم سے ہی چین کے علاقے کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔ چین کی مکمل یکجائی ایک مشترکہ خواہش ہے اور ان کی حکومت انتہائی مخلصانہ اور بہترین اقدامات کے ذریعے دونوں کی پُرامن یکجائی کے لیے کوشش کرتی رہے گی۔"

گلوبل ساؤتھ کا رکن

چین کو ترقی پذیر ملک قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایسی ترقی کو بین الاقوامی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے جس سے سبھی یکساں طور سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے ثمرات منصفانہ طور سے ہر ملک اور ہر فرد تک پہنچنے چاہئیں۔

چین کے 'بیلٹ اینڈ روڈ' اقدام کو دس سال مکمل ہونے کے حوالے سے انہوں نے باہمی تعاون کے 3,000 سے زیادہ منصوبوں اور گزشتہ برس چین۔یورپ ریلوے ایکسپریس پر 16,000 مرتبہ مال برداری کی خدمات مہیا کیے جانے کو اس اقدام کی کامیابی کی مثالیں قرار دیا۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ چین ترقی پذیر ملک اور دنیا کے جنوبی ممالک کا فطری ساتھی رہے گا اور ان کے جائز حقوق اور مفادات کو مضبوطی سے قائم رکھے گا۔ انہوں نے سیاست کاری اور دہرے معیار خصوصاً انسانی حقوق اور جمہوریت کو دوسرے ممالک میں مداخلت کے سیاسی ذریعے کے طور پر استعمال کیے جانے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔

موسمیاتی اقدام 

ہان زینگ نے زور دیا کہ کیسے موسمیاتی تبدیلی اور ترقی پذیر ممالک پر اس کے غیرمتناسب اثرات نے کم اور زیادہ آمدنی والے ممالک کے مابین فرق کو بڑھا دیا ہے اور موثر بین الاقوامی تعاون کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

انہوں ںے بیرون ملک کوئلے سے چلنے والے توانائی کے نئے منصوبوں کو روکنے اور ترقی پذیر ممالک کو ماحول دوست توانائی کے مزید منصوبے شروع کرنے میں بھرپور مدد دینے کے لیے پیرس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے کہا کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے مزید اقدامات کریں اور ترقی پذیر ممالک کی مالی معاونت کے ساتھ انہیں ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد مہیا کریں۔