انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا کے سیلاب متاثرین ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار

شمال مشرقی لیبیا میں سیلاب کی وجہ سے تینتالیس ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
© USAR Spain
شمال مشرقی لیبیا میں سیلاب کی وجہ سے تینتالیس ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

لیبیا کے سیلاب متاثرین ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً دو ہفتے پہلے سمندری طوفان ڈینیئل میں بچ جانے والے لیبیا کے ہزاروں لوگوں کے لیے بعد از صدمہ دباؤ اور ذہنی تناؤ ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس کا انہیں روزانہ سامنا ہوتا ہے۔

10 ستمبر کو ڈینیئل طوفان کے نتیجے میں آنے والی شدید بارشوں سے ساحلی شہر درنہ میں دو ڈیم ٹوٹ گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب نے شہر کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو ڈبو دیا۔

Tweet URL

متاثرین کو تلاش کرنے والی ٹیموں کے مطابق اس آفت میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے اور بہت سی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں یا سمندر کی نذر ہو چکی ہیں۔ 

اقوام متحدہ میں امدادی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے مطابق حالیہ دنوں میں امدادی کارروائیاں لاشیں جمع کرنے پر مرتکز تھیں تاکہ ان سے بیماریاں نہ پھیلیں، تاہم سیلاب میں بچ رہنے والے درنہ کے ہزاروں شہریوں کے لیے صدمہ اور غیریقینی کی کیفیت بھی نمایاں خدشات کا باعث ہے۔

نفسیاتی مدد کی فراہمی 

'او سی ایچ اے' کا کہنا ہے کہ مشرقی لیبیا میں رہنے والے لوگوں کو نفسیاتی مدد کی فراہمی ایک اہم ترجیح ہے جہاں تقریباً 20,000 لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

ادارے کے مطابق سیلاب کے باعث 43,000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ان میں بیشتر قریبی علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مقیم ہیں جبکہ تقریباً 2,780 افراد بن غازی کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔ 

شدید دکھ اور غیریقینی 

لیبیا میں اقوام متحدہ کی نمائندہ اور امدادی رابطہ کار جارجیٹ گیگنون نے بن غازی کا دو روزہ دورہ کیا اور وہاں ان خاندانوں سے ملاقات کی جو اپنے سیلاب زدہ گھر چھوڑ کر تحفظ کے لیے 250 کلومیٹر دور اس شہر میں آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے نقصان کے بارے میں بتایا اور اپنے بچوں کی تعلیم اور غیریقینی حالات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ 

جارجیٹ کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں کے ساتھ جو کچھ بیتی اور انہوں نے جس قدر سنگین پریشانی کا سامنا کیا اسے سننا دل شکن ہے۔ اس سانحے سے ہونے والا ذہنی نقصان بہت زیادہ ہے اور لوگوں کو صدمے سے باہر نکالنے کے لیے مدد کی فوری ضرورت ہے۔ 

بن غازی کے وسطی علاقے سے گاڑی پر نصف گھنٹے کے فاصلے پر واقع ایک احاطے میں انہوں نے پانچ افراد پر مشتمل خاندان سے ملاقات کی جو چار روز پہلے وہاں آیا تھا۔ انہوں ںے بتایا کہ جب سیلاب آیا تو چند ہی لمحوں میں پانی ان کی کمر تک پہنچ گیا تھا۔ 

ان کا تمام مال اسباب سیلاب میں بہہ گیا اور وہ بمشکل جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی گلی میں بہت سے دیگر گھروں کی طرح ان کا گھر بھی تباہ ہو گیا ہے۔ 

البیضا، درنہ اور سوسۃ میں حالیہ دنوں اقوام متحدہ کے اداروں کے اندازے کے مطابق طبی نگہداشت، بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام، پانی کے ذرائع کی جانچ اور تجزیے کے علاوہ نفسیاتی مدد متاثرین کی ترجیحی ضرورت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

امدادی اقدامات 

اپنےعزیزوں کی لاشیں ڈھونڈنے اور ان کی شناخت میں کامیاب ہونے والے لوگوں کو کسی قدر تسلی ہوئی ہے کہ وہ کم از کم انہیں مناسب طریقے سے دفنا سکتے ہیں۔ 

تاہم تقریباً 10,000 لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان پر کیا بیتی، اس بھید کو ذہنی تناؤ سے لڑتے درنہ کے رہائشی اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔  

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ادارہ (یو این ایچ سی آر) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) لیبیا میں موجود ہیں جو سیلاب سے بری طرح متاثرہ علاقوں اور گردونواح کے لوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔