انسانی کہانیاں عالمی تناظر

طبی خدمات تک عالمگیر رسائی نہ ہونا ’ایک بڑا انسانی المیہ‘

ایک ہیلتھ ورکر کابل میں ایک ماں اور اس کے بچے کے ساتھ ان کے گھر پر۔
© UNICEF/Arezo Haidary
ایک ہیلتھ ورکر کابل میں ایک ماں اور اس کے بچے کے ساتھ ان کے گھر پر۔

طبی خدمات تک عالمگیر رسائی نہ ہونا ’ایک بڑا انسانی المیہ‘

صحت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں ایک نئے سیاسی اعلامیے کی منظوری دے کر رکن ممالک نے اس پُرعزم ہدف تک رسائی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے اور ضروری مالی وسائل کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا۔

اس اعلامیے کے تحت عالمی رہنماؤں نے 2030 تک دنیا کے تمام لوگوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

Tweet URL

"یونیورسل ہیلتھ کوریج: بعد از کووڈ دنیا میں صحت و بہبود کے لیے اپنے پُرعزم ہدف کو وسعت دینے کے اقدامات" کے عنوان سے اس اعلامیے میں حکومتوں نے عالمگیر طبی خدمات کا دائرہ پھیلانے کے لیے سیاسی سرمایے سےکام لینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ 

'سیاسی انتخاب'

اس موقع پر اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ بالآخر تمام انسانوں کو طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ایک سیاسی انتخاب ہے۔ 

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ انتخاب صرف کاغذوں پر ہی نہیں ہوتا۔ یہ بجٹ اور پالیسی سے متعلق فیصلوں میں ہوتا ہے۔ بڑی حد تک یہ بنیادی طبی خدمات پر سرمایہ کاری کا معاملہ ہے جو تمام لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کا سب سے زیادہ مشمولہ، مساوی اور موثر راستہ ہے۔ 

اس اعلامیے کی منظوری امسال جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہونے والی دوسری طبی کانفرنس میں دی گئی۔ ایسی کانفرنسوں کی مجموعی تعداد تین ہے۔ 

وباؤں سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق کانفرنس بدھ کو ہوئی تھی اور جمعے کو تپ دق کی لعنت کے خاتمے سے متعلق کانفرنس کا انعقاد عمل میں آنا ہے۔ 

ہولناک اعدادوشمار

 طبی خدمات تک رسائی کے حوالے سے سامنے آنے والے ہولناک اعدادوشمار اس اعلامیے کی ہنگامی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ 

2021 کے اعدادوشمار کے مطابق کم از کم 4.5 ارب لوگ یا دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو بنیادی طبی خدمات میسر نہیں ہیں۔ 

اُس برس بنیادی طبی خدمات تک رسائی میں کامیابی حاصل کرنے والے دنیا کے تقریباً دو ارب لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہا جبکہ 1.3 ارب سے زیادہ لوگ محض بنیادی طبی خدمات اور ادویات کے حصول کی کوشش میں پسماندہ رہ گئے یا مزید غربت کا شکار ہو گئے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس سے بڑھتی ہوئی طبی عدم مساوات واضح ہوتی ہے۔ 

بنیادی حق

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر فرد کو طبی خدمات کی فراہمی سے "بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کے المیے" کا خاتمہ ہو گا کیونکہ اس وقت اربوں لوگوں کو بنیادی طبی خدمات تک رسائی نہیں ہے۔ 

انہوں ںے ممالک سے کہا کہ وہ دنیا بھر کی لڑکیوں اور خواتین کے لیے جنسی و تولیدی طبی خدمات تک رسائی یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں انتہائی غیرمحفوظ لوگوں بشمول بچوں، پناہ گزینوں، مہاجرین اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے والوں پر خاص توجہ دی جائے۔ 

امینہ محمد نے کہا کہ ممالک کو بہترین تربیت اور اچھی اجرتوں کی حامل طبی افرادی قوت پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی جو تمام ضرورت مند لوگوں کو موثر و معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کی اہل ہو۔ 

نائب سیکرٹری جنرل نے صحت سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی موجودگی اور ان کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت واضح کی جبکہ طبی کارکنوں میں اکثریت خواتین ہی کی ہے۔ 

فاضل مدد

انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے فاضل مدد کی فراہمی کے لیے کہتے ہوئے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کے لیے زور دیا۔ 

نائب سیکرٹری جنرل نے ممالک سے کہا کہ وہ پائیدار ترقی کے لیے فراہم کیے جانے والے مالی وسائل کو کم از کم 500 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کے لیے 'ایس ڈی جی کے حصول کی رفتار تیز کرنے کے اقدام' میں فیاضانہ طور سے مدد دیں۔ 

انہوں قرضوں کی ادائیگی آسان بنانے کے موثر طریقہ ہائے کار وضع کرنے اور کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں میں اصلاح لانے کے لیے بھی کہا۔