موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے اقدامات تیز کرنے کی ضرورت: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے موسمیاتی عزائم سے متعلق پہلی کانفرنس کے لیے نیویارک میں جمع منصوبہ ساز اور عملدرآمد کرنے والے سیاست دانوں، کاروباری رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے کہا ہے کہ "ہولناک گرمی ہولناک اثرات مرتب کر رہی ہے۔"
اس اجلاس میں ماحول دوست توانائی کی جانب بلاتاخیر منصفانہ اور مساوی منتقلی کے ذریعے بڑھتی ہوئی موسمیاتی آفات کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا گیا۔
سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ہونے والے اس ضمنی اجلاس میں سیاست دانوں، کاروباری رہنماؤں، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمایاں لوگوں سے اپنے جذباتی خطاب میں بے عملی کے سنگین نتائج سے متعلق کڑا انتباہ جاری کیا۔
انہوں ںے کہا کہ موسمی شدت کے واقعات کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور انسانوں نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان بے بسی سے اپنی فصلوں کو سیلاب کی نذر ہوتا دیکھ رہے ہیں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث موذی بیماریاں سامنے آ رہی ہیں اور جنگلوں میں لگنے والی اب تک کی غیرمعمولی آگ کے باعث بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔
مسئلے کے حل کی دوڑ
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ "ہمیں یہاں موسمیاتی مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے اور یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ مسئلے کی وسعت کے مقابلے میں اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات بہت کم ہیں جبکہ کرہ ارض کا درجہ حرارت 2.8 ڈگری سیلسیئس کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے خطرے اور عدم استحکام میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ مستقبل طے شدہ نہیں ہے اور پیرس معاہدے کے ہدف کے مطابق عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنا اب بھی ممکن ہے۔
ایسی دنیا کی تعمیر اب بھی ممکن ہے جہاں سبھی کو صاف فضا، ماحول دوست روزگار اور توانائی میسر ہو۔
تبدیلی کا محرک
ماحولیاتی کارکن خاموش بیٹھنے سے انکاری ہیں، قدیمی مقامی لوگ اپنی آبائی زمینوں کے دفاع کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں اور کاروباری منتظمین اپنے کام کے طریقوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل موسمیاتی یکجہتی کا معاہدہ کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں جس کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے بڑے ممالک کو مزید جواب دہ بنائے گا۔ انہوں نے امیر ممالک سے کہا ہے کہ وہ نئی معیشتوں کو مدد دیں تاکہ وہ بھی اس بحران کا مقابلہ کر سکیں۔
انکا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی رفتار تیز کرنے کا ایجنڈا حکومتوں سے تیزتر قدم اٹھانے کو کہتا ہے۔
'غصہ بڑھ رہا ہے'
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کے بہت سے غریب ترین ممالک ایسے بحران سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہونے کے باعث غصے میں ہیں جو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ ان ممالک کے لیے مزید موسمیاتی انصاف قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے غریب ترین ممالک کو خفا ہونے کا حق ہے کہ وعدے کے مطابق انہیں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل مہیا نہیں کیے گئے جبکہ قرض کی قیمتیں بدستور آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انہوں ںے زور دے کر کہا کہ تمام فریقین 'کاپ 28' میں طے کردہ نقصان اور تباہی کے فنڈ کو فعال کریں۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے کہا کہ وہ 100 ارب ڈالر کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل کریں، گرین کلائمیٹ فنڈ میں کمی کو پورا کریں اور موسمیاتی مطابقت پذیری کے لیے دیے جانے والی وسائل کو دگنا کریں۔
اس کے علاوہ 2027 تک دنیا میں ہر فرد کو موسمیاتی آفات کے بارے میں بروقت اطلاع دینے کی سہولت بھی میسر ہونی چاہیے۔
اعتماد کی بحالی
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی رفتار تیز کرنے کے ایجنڈے میں کاروباری اور مالیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ نیٹ زیرو کے ہدف کی جانب حقیقی مراجعت کریں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراجات میں کمی لانے کے منصوبوں میں شفافیت اور اعتبار پر توجہ مرکوز رکھیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جو کمپنی واقعتاً کاروبار کرنا چاہتی ہے اسے چاہیے کہ وہ ماحول دوست توانائی کی جانب ممنصفانہ منتقلی کے منصوبے بنائے جن کی بدولت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں قابل اعتبار طور سے کمی آئے اور موسمیاتی انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ باتیں نیویارک میں اجلاسوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ ان پر عملی پیش رفت ہونی چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں سیکرٹری جنرل نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ "ہم اپنی رفتار تیز کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنا ہو گی۔"