انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این 2.0: بدلتی دنیا میں عالمی ادارے کی ترتیبِ نو کا تصور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عمارت کے قریب طلوع آفتاب کا منظر۔
UN News/Anton Uspensky
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عمارت کے قریب طلوع آفتاب کا منظر۔

یو این 2.0: بدلتی دنیا میں عالمی ادارے کی ترتیبِ نو کا تصور

اقوام متحدہ کے امور

عملی میدان میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے کام کرتے ہوئے اور مستقبل پر توجہ مرکوز کر کے اقوام متحدہ کے لوگ اپنے ہاں ترتیب نو میں مصروف ہیں جس کی بدولت اس کے ادارے مزید مستعد، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور پُراثر ہو جائیں گے۔

صلاحیتوں اور کام کے ماحول میں یہ تبدیلی سیکرٹری جنرل کے یو این 2.0 کے تصور کا ایک اہم جزو ہے جس میں معلومات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اختراع، پیش بینی اور طرزعمل کی سائنس کے حوالےسے جدت کی حامل صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے تاکہ اچھے نتائج حاصل ہو سکیں، رکن ممالک کی جانب سے بہتر مدد مہیا ہو سکے اور پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے رہنماؤں اور ماہرین کے ایک گروپ نے رکن ممالک کے ساتھ اجلاس میں یو این 2.0 کے امکانات اور کئی طرح کی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ انہوں ںے کامیابی کی ابتدائی داستانیں سنائیں کہ اس نئی صورت میں مضبوط تر، مزید لچک دار اور جدید اقوام متحدہ کے عملی میدان میں اثرات مزید بہتر ہو جائیں گے۔

یہ اجلاس یو این 2.0 کے معاملے پر سیکرٹری جنرل کی جانب سے پیش کردہ حکمت عملی کے خلاصے کے اجرا سے پہلے منعقد ہوا۔

'پنج آہنگ تبدیلی' کو یو این 2.0 میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مسائل کو حل کرنے کے معلومات، اختراع، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، پیش بینی اور طرز عمل کی سائنس پر مبنی طریقوں کا مجموعہ ہے۔

اجلاس میں بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے عالمی روابط میلیسا فلیمنگ نے تبدیلی کی ضرورت پر ضرور دیا اور واضح کیا کہ پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے پر پیش رفت درست سمت میں گامزن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے امن و خوشحالی کے خاکے کی حیثیت سے 2015 میں اس ایجنڈے کی منظوری دی تھی۔

یو این 2.0 اصلاحات کے بڑھتے ہوئے مطالبات پر اقوام متحدہ کے نظام میں شامل اداروں کے کام کے طریقہ کار میں تبدیلی پیش کرتا ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب پیش رفت کی رفتار کو بڑھانا ہے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے پالیسی گائے ریڈر عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی ایک دہائی تک قیادت کرنے کا جامع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یو این 2.0 کا مقصد اقوام متحدہ کے اداروں کو دور حاضر کی ایسی مہارتوں سے لیس کرنا ہے جو اکیسویں صدی میں رکن ممالک کے موثر شراکت دار ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس ہونا ضروری ہیں۔

'کوئی پسِ ماندہ نہ رہے'

انتظامی حکمت عملی اور پالیسی و عملدرآمد کے بارے میں اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل کیتھرین پولارڈ نے واضح کیا کہ یو این 2.0 سے فائدہ اٹھانے والے پہلے لوگ وہ ہوں گے جنہیں اقوام متحدہ اپنے 193 رکن ممالک میں خدمات مہیا کرتا ہے۔  تاہم یہ بات بھی اسی قدر اہم ہے کہ یو این 2.0 کا تعلق اقوام متحدہ کے اداروں سے ہے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی بہتر انداز میں انجام دہی کے لیے نئی مہارتیں، نئی صلاحیت اور نیا مقصد پیدا کریں گے۔ 

کثیرفریقی میدان میں اقوام متحدہ کا بدستور اہم کردار ہو گا۔ کیتھرین پولارڈ نے کہا کہ اس اہمیت کو قائم رکھنے کے لیے ادارہ اپنے ملازمین کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گا، انہیں مزید تربیت فراہم کرے گا، نئے باصلاحیت لوگوں کی خدمات حاصل کرے گا اور انسانی وسائل سے متعلق پالیسیوں کو بہتر بنائے گا۔ 

جدید دنیا میں بہت سی دیگر چیزوں کی طرح یو این 2.0 کو ڈیجیٹل اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں سے چلایا جائے گا۔ عالمگیر ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ڈی پی' کے چیف ڈیجیٹل آفیسر رابرٹ اوپ نے اس امکان کی وکالت کی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے امکانات پیش کرتی اور ان کا تصور کرتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت حالیہ مسئلہ ہے لیکن کوانٹم کمپیوٹنگ اور دیگر پیش ہائے رفت بھی قریب ہیں جن کا ہمیں ابھی اندازہ نہیں ہے۔ جب اقوام متحدہ کے پورے نظام میں 'پنج آہنگ تبدیلی' پر کامیابی سے عملدرآمد ہو جائے گا تو نئے مسائل سے نمٹنے اور رکن ممالک کی مدد کرنے کے حوالے سے ادارے کی مستعدی غیرمعمولی طور سے بڑھ جائے گی۔

اقوام متحدہ میں عالمی روابط کے شعبہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ملیسا فلیمنگ فورڈ سنٹر میں یو این 2.0 پر ہونے والی گول میز کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe
اقوام متحدہ میں عالمی روابط کے شعبہ کی انڈر سیکرٹری جنرل ملیسا فلیمنگ فورڈ سنٹر میں یو این 2.0 پر ہونے والی گول میز کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی اور طرز عمل سے متعلق سائنس کا اہم کردار 

اقوام متحدہ رکن ممالک کو مسائل کے نئے حل کی تلاش میں فعال طور سے مدد دے رہا ہے۔ اس حوالے سے 90 سے زیادہ ممالک میں اختراعی تجربہ گاہوں کا جال بچھایا گیا ہے جو ٹیکنالوجی، معلومات اور دیگر شعبوں میں نئی مہارتوں کے تبادلے کے پلیٹ فارم کا کام دے رہی ہیں۔ 

'اقوام متحدہ کے اقدام 'گلوبل پَلس ایشیا۔پیسیفک' میں کام کرنے والے معلوماتی ماہر فیضل تھامرن نے انڈونیشیا سے کامیابی کی ایک نمایاں داستان سنائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے ان کی ٹیم نے حکومت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ہزاروں کاروباروں کے ساتھ مل کر مستقبل کے لیے تیاری کی۔ علاوہ ازیں ان کی ٹیم میں معلومات کے تجزیے کی مہارتوں اور انڈونیشیا کے تجربے نے اس پورے خطے میں قدرتی آفات سے بروقت آگاہی دینے والے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ 

یو این 2.0 کا کام مسائل کے معلومات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی حل پیش کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ طرزعمل سے متعلق سائنس ایک کثیرشعبہ جاتی میدان ہے جو نفسیات، معاشیات، مواصلات، معلوماتی سائنس، سماجیات اور متعدد دیگر شعبوں کی بصیرت کو یکجا کرتا اور 'پنج آہنگ تبدیلی' لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

گھریلو کام کاج کے حوالے سے آئی ایل او کی ماہر کلیئر ہوبڈین نے اس حوالے سے ارجنٹائن میں کام کے غیررسمی شعبے کی مثال دی جہاں اقوام متحدہ کی مدد سے حکومت کو سماجی تحفظ کا دائرہ گھریلو کارکنوں تک نمایاں طور سے پھیلانے میں مدد ملی۔ ان میں بچوں اور معمر و بیمار افراد کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین اور مرد کارکن بھی شامل ہیں جن تک رسائی عموماً مشکل ہوتی ہے۔ 

ہوبڈین نے کہا کہ امید ہے چھوٹی سی کوشش کے ذریعے مزید لوگوں کو سماجی تحفظ تک رسائی دی جا سکتی ہے اور بہتر کام کے لیے ان کے حق اور اس تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان طریقوں سے دنیا بھر میں ایسے 75 ملین کارکنوں کو سماجی تحفظ مہیا کیا جا سکتا ہے۔

یو این کے ڈیجیٹل ایجنڈے کا مقصد ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت ہر ٹیکنالوجی تمام انسانیت کے لیے یکساں فائدہ مند ہو۔
UN Photo/Elma Okic
یو این کے ڈیجیٹل ایجنڈے کا مقصد ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت ہر ٹیکنالوجی تمام انسانیت کے لیے یکساں فائدہ مند ہو۔

نئے ذرائع سے بہتر نتائج کا حصول 

گائے ریڈر نے اعلیٰ سطحی سفارت کاروں سے بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یو این 2.0 کا مطلب اپنا کام بہتر طور سے انجام دینا ہے۔ یہ بعض ایسے کاموں کو بہتر انداز سے کرنے کا معاملہ ہے جو ہم طویل عرصہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ساتھیوں کے آئندہ کام کی بابت اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'آپ نے جو کچھ کیا ہے وہ بہت زبردست کام تھا۔ اب ہمارے پاس نئے ذرائع ہیں۔ آئیے ان نئے ذرائع سے کام لیں، انہیں استعمال کریں اور شاید ہم ان کی بدولت اپنے پہلے سے چلے آ رہے کام کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے جو کام ہوا وہ اچھا نہں تھا۔ اس کا مطلب یہ کہنا ہے کہ ہم مستقبل میں جو کچھ کریں گے وہ ماضی سے بہتر ہو سکتا ہے۔' 

اقوام متحدہ میں ناروے اور جمہوریہ انڈونیشیا کے مستقبل مشن اس اجلاس کے مشترکہ میزبان تھے جس میں سیکرٹری جنرل کے ایگزیکٹو دفتر نے بھی شراکت کی۔