اقوام متحدہ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ غربت اور عدم مساوات سے موسمیاتی ہنگامی حالت تک تیزی سے پیچیدہ ہوتے بحرانوں سے دوچار دنیا میں مسائل پر قابو پانے میں اقوام متحدہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ادارے کے کام سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو امن اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کا عزم رکھتا ہے۔
یہ رپورٹ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں عالمی رہنماؤں کے اجتماع سے پہلے جاری کی گئی ہے جس میں سیکرٹری جنرل نے عالمگیر بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات سے دوچار ممالک کی ضروریات سب سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں سیکرٹری جنرل نے بتایا ہے کہ 2022 میں اقوام متحدہ نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر 69 ممالک اور علاقوں میں 216 ملین لوگوں کے لیے امدادی اقدامات کو منطم کیا اور تقریباً 160 ملین شدید ضرورت مند لوگوں کو زندہ رہنے میں مدد دی اور تحفظ مہیا کیا۔
اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں عطیہ دہندگان سے 30 بلین ڈالر انسانی امداد بھی حاصل کی جو ایک ریکارڈ ہے اور اس طرح اسے یوکرین، افغانستان، ایتھوپیا، صومالیہ اور بحرانوں کا شکار متعدد دیگر جگہوں پر تحفظ زندگی کے پروگراموں پر عملدرآمد میں مدد ملی۔
قیام امن: اقوام متحدہ کا اہم مقصد
قیام امن اور غیرمحفوظ لوگوں کو تحفظ دینا بدستور ادارے کا بنیادی کام ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ امن اقوام متحدہ کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ ادارے کی ٹیموں نے جنگوں کی روک تھام، ان میں کمی لانے، ان پر قابو پانے اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے کئی طرح کے ذرائع سے کام لیتے ہوئے ان سے متاثرہ لوگوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
یہ کوششیں یمن میں جنگ بندی کے لیے ثالثی سے لے کر 41 خصوصی سیاسی مشن، قیام امن کی 12 کارروائیوں اور 37 ممالک میں جاری کام میں مدد دینے کے لیے قیام امن کے فنڈ سے 231 مین ڈالر لانے تک پھیلی ہیں جس کا بڑا حصہ خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وقف کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے ایسے ممالک میں امن کو فروغ دینے کے لیے افریقن یونین سمیت علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون بھی جاری رکھا جو طویل عرصہ سے جنگوں کا شکار چلے آ رہے ہیں۔
بھوک کے خلاف جنگ
ادارے نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام میں بھی اہم کردار ادا کیا جس میں ترکیہ، روس اور یوکرین بھی شامل تھے اور اس اقدام کا مقصد عالمگیر بھوک میں کمی لانا اور خوراک کی ترسیل کو مستحکم بنانا تھا۔
اس اقدام اور اس کے متوازی اقوام متحدہ اور روس کے مابین معاہدے کی بدولت 32 ملین ٹن سے زیادہ اناج، دیگر خوراک اور کھادوں کی عالمی مںڈیوں کو برآمد ممکن ہوئی۔ اس میں سے نصف خوراک ترقی پذیر ممالک کو بھیجی گئی۔
تیسری مدت کے بعد اس معاہدے میں تجدید نہیں ہوئی جو کہ جولائی میں ختم ہوئی تھی۔
انسانی حقوق کا فروغ
کووڈ۔19 کا زور ٹوٹنے کے بعد اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے اداروں کو بالمشافہ کام دوبارہ شروع کرنے میں مدد دی جس میں انسانی حقوق کونسل کے باقاعدہ اور خصوصی اجلاس اور حقوق کے غیرجانبدار ماہرین کی جانب سے ممالک کے 50 سے زیادہ دورے بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے ایک درجن سے زیادہ ممالک اور علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی تربیت کا اہتمام کیا، انسانی حقوق کے بین الاقوامی ضابطوں کے احترام کو فروغ دیا اور بحرانوں کی پیش بینی کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں سات مقامات پر ہنگامی اقدامات کرنے والی ٹیموں کو تعینات کیا۔
اقوام متحدہ نے تشدد کے 47,000 متاثرین اور غلامی کی معاصر اقسام کے 13,000 سے زیادہ متاثرین کی مدد میں بھی تعاون کیا۔
پُرعزم عملہ
اقوام متحدہ کے عملے کے ارکان کا عزم عالمگیر بحرانوں پر قابو پانے اور انسانیت کو امن، استحکام اور خوشحالی کی نئی راہ پر ڈالنے کے لیے ان کی لگن سے واضح ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ بہتر مستقبل کے لیے اپنی جدوجہد کبھی ترک نہیں کرے گا۔