گلوبل ساؤتھ ممالک میں باہمی تعاون پائیدار ترقی میں اہم
گلوبل ساؤتھ یا دنیا کے ترقی پذیر و کم ترقی یافتہ ممالک کے مابین جاری تعاون کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے 12 ستمبر کو جنوب۔جنوب تعاون کا اپنا سالانہ دن منایا۔
رواں برس 'یکجہتی، مساوات اور شراکت: ایس ڈی جی کے حصول کے لیے جنوب۔جنوب تعاون کی راہیں کھولنا' اس دن کا باضابطہ موضوع ہے۔
جنوب۔جنوب تعاون قومی بہبود، قومی و اجتماعی خود انحصاری اور ترقی کے حوالے سے متفقہ عالمی اہداف بشمول پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے سے متعلق یکجہتی کا اظہار ہے۔
دو روزہ ایس ڈی جی کانفرنس سے فوری پہلے آنے والا یہ دن دنیا کے جنوبی ممالک کے لیے متعدد خطوں کی ضروریات پر زور دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب عملی اقدامات کی رفتار تیز کرنے کا موقع ہے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ گہرے طور سے باہم مربوط مسائل سے معمور دنیا میں جنوب۔جنوب تعاون روشن تر مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جنوب۔جنوب تعاون کے لیے اقوام متحدہ کا یہ دن اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ جب ممالک متحد ہوتے ہیں تو وہ رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں اور پائیدار ترقی کی رفتار میں تیزی لانے کے قابل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باہم مل کر ہی ہم مشترکہ خوشحالی کی ایسی دنیا تخلیق کر سکتے ہیں جہاں تعاون سرحدوں سے ماورا ہو۔
تعاون کا جذبہ
دنیا کے جنوبی حصے کے ممالک کے مابین تعاون کی مثالوں میں کیوبا کی جانب سے مغربی افریقہ میں ایبولا سے نمٹنے میں تعاون، جمہوریہ کانگو کی جانب سے برازیل میں خاندانی کاشت کاری اور سکولوں میں بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے پروگراموں کے لیے مدد اور یونیسکو کی جانب سے جزائر مارشل، جزائر سولومن، فجی، سیموا، ٹونگا، ٹووالو اور وینوآٹو کے مابین اساتذہ کی تدریسی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تعاون کے تبادلے میں سہولت دینے کے اقدامات نمایاں ہیں۔
تعاون کے اس جذبے میں مزید مضبوطی لانےکے لیے جنوب۔جنوب تعاون سے متعلق اقوام متحدہ کا دفتر (یو این او ایس ایس سی) جنوب۔جنوب اور سہ رخی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
سہ رخی تعاون میں عطیہ دہندہ ممالک اور کثیرفریقی ادارے جنوب۔جنوب اقدامات کو مالی مدد، تربیت، انتظامی معاونت اور ٹیکنالوجی کے نظام کی فراہمی اور دیگر طریقوں سے سہولت مہیا کرتے ہیں۔
اجتماعی خود انحصاری
جنوب۔جنوب تعاون دنیا کے جنوبی حصے کے ممالک کے مابین سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی، ماحولیاتی اور تکنیکی میدانوں میں اشتراک کے وسیع نظام کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
جنوب۔جنوب تعاون کے ذریعے ترقی پذیر ممالک مربوط کوششوں کو بروئے کار لا کر اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی غرض سے علم، صلاحیتوں، مہارتوں اور وسائل کا تبادلہ کرتے ہیں۔
انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات سے لے کر غربت کے خاتمے تک، صحت سے تعلیم تک اور تجارت سے ڈیجیٹلائزیشن تک ترقی پذیر ممالک کے مابین یکجہتی اور مضبوط شراکتیں مزید مساوی اور مستحکم دنیا کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ جنوب۔جنوب تعاون سے متعلق اقوام متحدہ کا دن مناتے ہوئے آئیے اس طرح کے تعاون کا تبدیلی، اظہار یکجہتی، اختراع اور باہمی تعاون کو مہمیز دینے کی لازمی ضرورت کے طور پر اعتراف کریں۔