لیبیا: طوفانی سیلاب میں ہزاروں ہلاک، امدادی سرگرمیاں تیز
اقوام متحدہ کے ادارے اور شراکت دار مشرقی لیبیا میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے ہلاکت خیز سلاب اور جانی نقصان سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی اقدامات میں مصروف ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے مطابق سیلاب میں اندازاً 3,000 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور تقریباً 10,000 افراد لاپتہ ہیں۔ سمندری طوفان ڈینیئل اس سیلاب کا باعث بنا جس نے ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی حصوں کو لپیٹ میں لے لیا۔
ہم لیبیا کے ساتھ ہیں: انتونیو گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں لیبیا کے حکام اور اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ہزاروں متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ اس مشکل گھڑی میں لیبیا کے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہے۔
اس کے علاوہ متاثرین کی مدد کے لیے وسائل اور ہنگامی حالات میں مدد دینے والی ٹیموں کو متحرک کیا جا رہا ہے اور سیلاب کی زد میں آنے والے علاقوں میں انسانی امداد کی فوری فراہمی کے لیے مقامی، قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ضروریات کا اندازہ لگانے اور امدادی کوششوں میں تعاون کے لیے لیبیا کے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
لیبیا پر عملاً دو متحارب حکومتوں کی عملداری ہے جس میں طرابلس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی حکومت کام کر رہی ہے جبکہ ملک کا مشرقی علاقہ پارلیمنٹ کے ساتھ چلائی جانے والی حکومت کے زیرتسلط ہے۔
'علاقے سمندر میں بہہ گئے'
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کے مطابق طوفانی بارشوں کے نتیجے میں دو ڈیم ٹوٹ جانے سے درنہ شہر کے کئی علاقے پورے کے پورے سمندر میں بہہ گئے۔
اتوار کو لیبیا کے شمال مشرقی علاقے میں سیلاب نے شدید صورت اختیار کر لی جس کے ساتھ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے مواصلاتی نظام خراب کر دیا اور بجلی کے کھمبے اور درخت زمیں بوس ہو گئے۔