انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق کمشنر کی تقسیم اور جبر کی سیاست پر کڑی تنقید

انسانی حقوق کمشنر نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاح کی ضرورت پر بات کی تاکہ غریب ممالک کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی میں منصفانہ معاہدے کیے جا سکیں۔
UN Photo/Jean Marc Ferré
انسانی حقوق کمشنر نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاح کی ضرورت پر بات کی تاکہ غریب ممالک کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی میں منصفانہ معاہدے کیے جا سکیں۔

انسانی حقوق کمشنر کی تقسیم اور جبر کی سیاست پر کڑی تنقید

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ ترقی کا پہیہ آگے بڑھانے کے لیے ممالک کو آمریت مسترد کرنا ہو گی اور شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کو تحفظ دینا ہو گا۔

ادارے کی انسانی حقوق کونسل کے 54ویں اجلاس کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے جبر کی قدیم، بے حس اور سفاکانہ سیاسی کی کڑی مذمت کی جس کی مثال بڑھتی ہوئی فوجی بغاوتوں اور مخالفت کو طاقت سے کچلنے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔

Tweet URL

نیجر اور گیبون میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح حالیہ عرصہ میں ساحل خطے میں دیکھنے کو ملا، حکومت میں غیرآئینی تبدیلیاں مسائل کا حل نہیں ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے دنیا کو شہری حکمرانی کی جانب فوری واپسی اور ایسے آزاد ماحول کی ضرورت ہے جہاں لوگ کارِ حکومت میں حصہ لے سکیں، اس پر اثرانداز ہو سکیں، اس کا ساتھ دے سکیں اور حکومت کے کاموں یا اس کی بے عملی پر تنقید کر سکیں۔ 

باہم مربوط حقوق اور ترقیاتی مسائل 

وولکر تُرک نے کہا کہ ساحل خطے کے ممالک کو درپیش مسائل باہم مربوط ہیں جن کے باعث وہاں کے لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر بقا کی جدوجہد کا سامنا ہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات، ضروری خدمات میں سرمایہ کاری کا فقدان اور کمزور حکمرانی سے متشدد انتہاپسندی جنم لیتی ہے۔ 

انہوں ںے بڑے پیمانے پر پھیلائے جانے والے جھوٹ اور غلط اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جس کے لیے اب نئی ٹیکنالوجی سے بھی کام لیا جانے لگا ہے۔ ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ ہر جگہ لوگ پروپیگنڈے کے بجائے معروضی اطلاعات چاہتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔

'کوئی پسِ ماندہ نہ رہے' 

وولکر تُرک نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ میں سالہا سال تک خدمات انجام دینے کے بعد ان پر واضح ہو گیا ہے کہ ہمیں درپیش تقریباً ہر مسلئے کے پیچھے ترقیاتی مسائل کارفرما ہوتے ہیں۔ 

انہوں ںے کہا کہ کسی کو پسِ ماندہ نہ رہنے دینا خالی خولی نعرہ نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق سے متعلق عملی منصوبہ ہے جو حقوق کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ 

انہوں ںے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا 2030 تک بھوک اور غربت کے خاتمے کے وعدے کو پورا نہیں کر رہی۔ 

انسانی حقوق اور اجتماعی ناکامی 

وولکر تُرک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق اس دہائی کے اختتام پر بڑے پیمانے پر مالیاتی وسائل اور ٹیکنالوجی کے ذرائع کی موجودگی کے باوجود متوقع طور پر تقریباً 600 ملین لوگوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہو گا۔ 

انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ 1.2 بلین لوگ اس وقت شدید نوعیت کی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہیں جن میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق خدشہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ایسے لوگوں کی تعداد میں مزید لاکھوں افراد کا اضافہ ہو جائے گا۔

انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک کے مطابق ترقی میں پیچھے رہ جانے سے معاشروں میں شدت پسندی زور پکڑتی ہے جیسا کہ نیجر میں ہوا۔
© FAO/Luis Tato
انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک کے مطابق ترقی میں پیچھے رہ جانے سے معاشروں میں شدت پسندی زور پکڑتی ہے جیسا کہ نیجر میں ہوا۔

عدم مساوات کے خلاف جدوجہد 

ہائی کمشنر نے امیر اور غریب کے مابین بہت بڑا خلا دور کرنے کے لیے درکار اقدامات اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والی عدم مساوات کی تفصیل بتائی۔ 

انہوں ںے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاح کی ضرورت پر بات کی تاکہ غریب ممالک کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے مںصفانہ معاہدے کیے جا سکیں، ترقی پذیر ممالک کو ایس ڈی جی کے حصول کی جانب کام کی رفتر تیز کرنے کے لیے مالی مدد کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکے، محصولات کے معاملے میں بین الاقوامی تعاون کو مہمیز ملے اور بدعنوانی و غیرقانونی مالیاتی بہاؤ کے خلاف عالمگیر جدوجہد میں نئی توانائی لائی جا سکے۔ 

ماحولیاتی احتساب

وولکر تُرک نے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دینے اور ان کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انسانی حقوق کی بنیاد پر ایسے موسمیاتی اقدام کے لیے کہا جس کے لیے موثر مالی معاونت میسر ہو جبکہ اس مسئلے کو پیدا کرنے میں ان ممالک کا بہت کم کردار ہے۔ 

انہوں ںے معدنی ایندھن کے استعمال کا فوری اور منصفانہ انداز میں خاتمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ماحولیاتی نقصان پر احتساب یقینی بنانے کے اقدامات کے جائزے کا خیرمقدم کیا۔ اس میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں کام کرنے والی جرائم کی عالمی عدالت کو تشکیل دینے والے روم قانون میں 'ماحول کا قتل' کے الفاظ شامل کرنے کی تجویز جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ 

بے اعتنائی کی سیاست 

ہائی کمشنر نے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے بہت سے بحرانوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں ںے کہا کہ انہیں اس سال بحیرہ روم میں 2,300 لوگوں کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کے واقعات پر سرد مہری اور بے اعتنائی کی سیاست کو دیکھ کر صدمہ پہنچا۔ جون میں یونان کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے کے ایسے ایک ہی واقعے میں 600 سے زیادہ انسانی جانوں کا نقصان ہوا تھا۔ 

انہوں نے اس حقیقت کی کڑی مذمت کی کہ مزید بہت سے تارکین وطن اور پناہ گزین یورپ، خلیج بنگال، امریکہ اور میکسیکو کے سرحدی علاقے میں اور دوسری جگہوں پر ہلاک ہو رہے ہیں جس کی کوئی خبر نہیں لیتا۔

یوکرین میں بمباری کے بعد ایک تباہ حال عمارت کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
© UNDP/Oleksandr Ratushniak
یوکرین میں بمباری کے بعد ایک تباہ حال عمارت کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

یوکرین میں روس کی 'ہولناک' جنگ 

وولکر تُرک نے یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے اور ملک کو تاراج کر دینے والی ہولناک جنگ کا تذکرہ بھی کیا۔ 

انہوں ںے کہا کہ روس کی جانب سے جولائی میں بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام سے دستبرداری اور اوڈیسا و دیگر مقامات پر اناج کے مراکز پر حملوں سے ایک مرتبہ پھر بہت سے ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے خوراک تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ 

فلسطین اور ایران 

ہائی کمشنر نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے فلسطینی حکام اور غزہ میں حکام کی جانب سے شہری آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ 

انہوں نے ایک سال گزرنے کے باوجود ایران میں مہاسا امینی کی موت کے حوالے سے ناکافی احتساب پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور خواتین و لڑکیوں کے حقوق محدود کیے جانے اور انہیں قابو میں رکھنے کے تقریباً واحد مقصد کے ساتھ اخلاقی پولیس کی نئے سرے سے تعیناتی پر خدشات کا اظہار کیا 

قرآن کو جلانے کے ناخوشگوار واقعات 

صنفی معاملات پر مصنوعی تنازعات گھڑے جانا بھی اس طرزعمل کا ایک حصہ ہے جسے وولکر تُرک نے تقسیم اور انتشار کی سیاست قرار دیا۔ اس تناظر میں انہوں ںے قرآن کو جلائے جانے کے 30 حالیہ واقعات کے ناخوشگوار سلسلے کا تذکرہ کیا جس کا مقصد معاشروں اور ممالک کے مابین تقسیم پیدا کرنا ہے۔ 

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 6 اکتوبر کو اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کریں گے جس کا اختیار کونسل کے گزشتہ اجلاس میں ایک ہنگامی مباحثے کے دوران منظور کردہ قرارداد کے ذریعے دیا گیا ہے۔ 

کونسل کا طویل اجلاس 

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 54واں اجلاس جینیوا کے 'پیلس آف نیشنز' میں 13 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ پانچ ہفتوں پر مشتمل اس طویل اجلاس میں دیگر کے علاوہ افغانستان، بیلارس، جمہوریہ کانگو، ہیٹی، میانمار، نکاراگوا، سری لنکا، سوڈان اور یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والی ایک عمارت۔
© Ziad Taleb
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والی ایک عمارت۔