انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مراکش زلزلہ: اقوام متحدہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تیار

زلزلے کا مرکز تاریخی شہر مراکیش سے تقریباً 71 کلومیٹر دور ہائی اٹلس پہاڑی سلسلے میں تھا۔
UNESCO/Eric Falt
زلزلے کا مرکز تاریخی شہر مراکیش سے تقریباً 71 کلومیٹر دور ہائی اٹلس پہاڑی سلسلے میں تھا۔

مراکش زلزلہ: اقوام متحدہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تیار

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مراکش کے وسطی علاقے میں جمعے کی رات آنے والے خوفناک زلزلے پر گہرے دکھ اور حکومت اور ملک کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 1,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ متاثرین کی مدد کے لیے حکومت کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے امدادی مرکز 'ریلیف ویب' کے مطابق طاقتور زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے کچھ دیر بعد آیا۔ ریکٹر سکیل پر اس کی شدت 6.8 اور گہرائی 18.5 کلومیٹر تھی۔ اس زلزلے کا مرکز تاریخی شہر مراکیش سے تقریباً 71 کلومیٹر دور ہائی اٹلس پہاڑی سلسلے میں تھا۔ 

اطلاعات کے مطابق 840,000 آبادی کے شہر میں متعدد گھر منہدم ہو گئے اور عمارتوں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ زلزلے کے مرکز والا علاقہ زیادہ گنجان آباد نہیں ہے۔ 

بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے اس حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔ 

'اقوام متحدہ آپ کے ساتھ ہے' 

انتونیو گوتیرش نے متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی ہے۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینیس فرانسس نے ایک ٹویٹ میں متاثرین اور ان کے اہلخانہ کے لیے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں مراکش کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہو۔

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے اپنے پیغام کہا ہے کہ ان کی دعائیں اور ہمدردیاں مراکش کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ 

انہوں نے لکھا ہے کہ 'اقوام متحدہ بحالی کے عمل میں آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔'