’مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں روسی انتخابات کا کوئی قانونی جواز نہیں‘
سیاسی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں روس کی جانب سے منعقدہ نام نہاد انتخابات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
یورپ کے لیے اقوام متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل میروسلاو جینکا نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ادارے کے سیکرٹری جنرل کے موقف کو دہرایا کہ کسی ملک کی جانب سے دوسرے ملک کے علاقے کا بزور طاقت اپنے ساتھ الحاق کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں ںے روس کی جانب سے یوکرین کے ان علاقوں میں نام نہاد انتخابات کے انعقاد کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جن پر اس نے فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں ان نام نہاد انتخابات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کا واضح موقف
جینکا نے روس کی جانب سے نام نہاد ریفرنڈم کے انعقاد کے ذریعے یوکرین کے علاقوں ڈونیسک، لوہانسک، کیرسون اور ژاپوریژیزیا کا اپنے ساتھ الحاق کرنے کی غیرقانونی کوشش کا تذکرہ کیا۔
انہوں ںے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ یوکرین کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ زمینی و سمندری سرحدی حدود میں اس کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے۔
قانونی ذمہ داریاں
میروسلاو جینکا نے یہ بھی واضح کیا کہ مقبوضہ طاقت کی حیثیت سے روس بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنے زیرقبضہ علاقوں میں یوکرین کے نافذ کردہ قوانین کے احترام کا پابند ہے یہاں کہ انہیں قطعی طور پر ممنوع قرار نہ دے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ ایسے افعال کی مذمت کرتا رہے گا جو صورتحال میں مزید کشیدگی یا بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں۔
انسانی خدشات
اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی عہدیدار نے روس کے زیرقبضہ علاقوں میں انسانی ضروریات اور انسانی حقوق کی صورتحال سمیت رسائی کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے حملے سے وہاں کے لوگوں کو روزانہ بہت بڑی تکالیف کا سامنا ہے جہاں شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق فروری 2022 سے اب تک یوکرین میں 26,717 شہریوں کا نقصان ہوا ہے جن میں 9,511 ہلاک اور 17,206 زخمی ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں اب تک کم از کم 549 بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور 1,166 زخمی ہوئے ہیں۔
بے رحمانہ حملے جاری
اسی ہفتے ہی ڈونیسک کے علاقے کوسٹیانٹینیوکا میں ایک پُرہجوم بازار پر روس کے میزائل حملے میں ایک بچے سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے۔
میروسلاو جینکا نے کہا کہ یوکرین کے زرعی مراکز اور بندرگاہیں بھی متواتر بے رحمانہ حملوں کی زد میں ہیں۔ روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام میں توسیع سے انکار کے فیصلے کے بعد اس کے یہ حملے عالمگیر غذائی تحفظ پر دور رس منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات بشمول خوراک کی پیداوار اور تقسیم کے مقامات پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہیں۔