انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیدار ترقی کے اہداف میں صنفی مساوات کے حصول میں ناکامی: یو این ویمن

کینیا اور افریقہ کے دوسرے ملکوں میں خشک سالی سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
© WFP/Alessandro Abbonizio
کینیا اور افریقہ کے دوسرے ملکوں میں خشک سالی سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

پائیدار ترقی کے اہداف میں صنفی مساوات کے حصول میں ناکامی: یو این ویمن

پائیدار ترقی کے اہداف

یو این ویمن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے تحت صںفی تفاوت کو ختم کرنے میں تشویش ناک حد تک ناکام ہے۔

صںفی مساوات کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے ایس ڈی جی کے حصول کے لیے مقررہ مدت کا نصف عرصہ گزرنے کے بعد صنفی تفاوت کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے۔

Tweet URL

اس رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ رحجانات برقرار رہے تو 2030 تک 340 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو غربت کا سامنا ہو گا۔ 

یہ تعداد دنیا بھر میں خواتین کی آبادی کا آٹھ فیصد ہے۔ 

تقریباً ایک چوتھائی خواتین اور لڑکیوں کو معتدل یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہے گا اور پیش رفت کی موجودہ شرح کو مدنظر رکھا جائے تو خواتین کی آئندہ نسل بلامعاوضہ نگہداشت اور گھریلو کام پر مردوں کے مقابلے میں روزانہ مزید 2.3 گھنٹے صرف کر رہی ہو گی۔ 

یو این ویمن کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اختیار اور قیادت والے عہدوں میں صںفی تفاوت بدستور بہت گہری ہے۔ 

عملی اقدامات کی پکار 

ادارے کی قائم مقام ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ ہینڈرکس نے اسے عملی اقدمات کے لیے بلند آہنگ پکار قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسی دنیا کی جانب اپنی سمت درست کرنے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر اور بالارادہ اسی وقت کام شروع کرنا ہو گا جہاں ہر خاتون اور لڑکی کے پاس مساوی حقوق، مواقع اور نمائندگی ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں ہر شعبے میں ہر متعلقہ فریق کی جانب سے غیر متزلزل عزم، اختراعی طریقہ ہائے کار اور تعاون کی ضرورت ہے۔ 

یہ رپورٹ حقیقی مساوات کے حصول کے پُرعزم ہدف کی روشنی میں پائیدار ترقی کے تمام 17 اہداف کے تحت صنفی عوامل کا جامع تجزیہ مہیا کرتی ہے۔ 

اس میں پہلی مرتبہ صنف اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی تعلق کے بارے میں صنفی تجزیاتی اعدادوشمار بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ موسمیاتی اعتبار سے بدترین منظرنامے کو مدنظر رکھا جائے تو اس صدی کے وسط تک موسمیاتی تبدیلی مزید 158.3 ملین خواتین اور لڑکیوں کو غربت میں دھکیل سکتی ہے۔ 

یہ اس حوالے سے مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں 16 ملین زیادہ بڑی تعداد ہے۔ 

غیرمساوی جدوجہد 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ معمر خواتین کو معمر مردوں کے مقابلے میں بلند شرح سے غربت اور تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔ 

اس ضمن میں جن 116 ممالک سے معلومات جمع کی گئیں ان میں سے 28 میں معمر خواتین کی نصف سے کم تعداد پینشن لے رہی تھی۔ 

2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب نصف وقت گزر جانے کے بعد صنفی مساوات سے متعلق ایس ڈی جی 5 پر پیش رفت واضح طور پر سست ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پائیدار ترقی کے پانچویں ہدف سے متعلق محض دو اشاریوں میں کامیابی کے قریب پہنچی ہے اور کسی اشاریے نے 'ہدف حاصل ہونے یا اس کے قریب الحصول ہونے' کی حد کو نہیں چھوا۔ 

کئی انداز میں یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پائیدار ترقی کے اہم اہداف میں مساوات اور خواتین کی بااختیاری کے حصول کے لیے ہر سال مزید 360 بلین ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

منصفانہ معاشرے کی بنیاد 

اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی امور کے ادارے (ڈی ای ایس اے) میں پالیسی کی ہم آہنگی سے متعلق شعبے کی سربراہ ماریا فرانسسکا سپیٹولیسانو نےکہا ہے کہ صںفی مساوات 2030 کے ایجنڈے میں محض ایک ہدف نہیں ہے۔

اس کے بجائے یہ ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد اور ایسا ہدف ہے جس پر دیگر تمام اہداف کو استوار ہونا چاہیے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ہر سماجی شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کی مکمل شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑ کر ہم اب تک غیرمستعمل رہنے والے اس امکان سے فائدہ اٹھائیں گے جو سبھی کے لیے ترقی اور خوشحالی لا سکتا ہے۔