انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کینیڈا میں ’جدید طرز غلامی‘ پر یو این ماہر کو گہری تشویش

کینیڈا کی ایک جھیل۔
© Unsplash/Marcelo Vaz
کینیڈا کی ایک جھیل۔

کینیڈا میں ’جدید طرز غلامی‘ پر یو این ماہر کو گہری تشویش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ایک غیرجانبدار ماہر نے کینیڈا میں عارضی غیرملکی کارکنوں کے پروگراموں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 'غلامی کی معاصر اقسام کی پرورش گاہ' قرار دیا ہے۔

جدید غلامی کی لعنت پر انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ خصوصی اطلاع کار ٹومویا اوبوکاٹا نے یہ بیان ملک کے 14 روزہ دورے کے اختتام پر جاری کیا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے کینیڈا کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کرے اور تمام مہاجرین کو مستقل رہائش دینے کا واضح راستہ پیش کرے۔ 

مہاجر کارکنوں کو خطرات 

انہوں نے کہا کہ انہیں مہاجر کارکنوں کی جانب سے بیان کردہ استحصال اور بدسلوکی کی داستانوں پر سخت پریشانی ہے۔ 

اوبوکاٹا کا کہنا ہے کہ آجروں سے مخصوص کام کے اجازت ناموں کے طریقہ کار بشمول غیرملکی کارکنوں سے متعلق عارضی پروگرام مہاجر کارکنوں کو غلامی کی معاصر اقسام کے مقابل غیرمحفوظ بنا دیتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی اطلاع دیں تو انہیں ملک بدری کا خدشہ ہوتا ہے۔ 

انہوں ںے کاروباری شعبے میں انسانی حقوق کو فروغ دینے کے لیے نافذ کردہ حالیہ پالیسیوں کو سراہا جن میں ذمہ دارانہ کاروبار کے لیے کینیڈا کے محتسب (سی او آر ای) کے عہدے کی تخلیق اور دیگر ضابطہ ہائے اخلاق شامل ہیں۔ 

تاہم انہوں نے غیرملکی مہاجر کارکنوں کی جانب سے ملکی معیشت کو اپنی قابل قدر صلاحیتوں سے فائدہ پہنچانے کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں ان کی حیثیت کو باضابطہ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس میں کینیڈا کے کاروباری اداروں کے لیے انسانی حقوق کے حوالے سے ضروری احتیاطی تدابیر کا نفاذ یقینی بنانا اور 'سی او آر ای' کی آزادی، اختیارات اور ذمہ داری کو وسعت دینا ممکن ہو۔

تحفظ کے ذمہ اداروں کی بے حسی

اوبوکاٹا نے کینیڈا کے دورے میں دیکھا کہ معاصر غلامی اور استحصال کے انتہائی خطرے سے دوچار لوگ وہ ہیں جو پہلے ہی ساختیاتی تفریق اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ 

ان میں مہاجرت کی غیریقینی حیثیت کے حامل افراد، قدیمی مقامی لوگ، معذور افراد، افریقی النسل لوگ، سابق قیدی اور بے گھر افراد شامل ہیں۔ 

انہوں نے کینیڈا کی نوآبادیاتی تاریخ اور فرسٹ نیشنز، میٹس اور اینوئٹ جیسے قدیمی مقامی لوگوں پر غلامی کی معاصر اقسام کے غیرمتناسب اثرات کے مابین لکیر کھینچی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں ںے اس مسئلے پر نفاذ قانون کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے بے حسی کے واقعات کی شکایت کی ہے۔ 

اوبوکاٹا کا کہنا ہے کہ انہیں قدیمی مقامی خواتین، لڑکیوں اور ٹو سپرٹ لوگوں کے لاپتہ یا قتل ہونے کے واقعات پر شدید تشویش ہے۔ یہ واقعات عموماً انسانی سمگلنگ، جبری مشقت یا جنسی استحصال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق ان لوگوں کو انسانی سمگلروں کی جانب سے اس وقت ہدف بنایا جاتا ہے وہ نوکری یا خدمات کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ 

قانونی مسائل اور ان کا حل 

کینیڈا کی جانب سے اپنے داخلی نظام میں غلامی سے نمٹنے کی کوششوں میں بہتری آئی ہے۔ تاہم غیرجانبدار ماہر کا کہنا ہے کہ انہوں ںے مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے واقعات سے نمٹنے والے عملے میں متاثرین کو پہنچنے والے صدمےکے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے اور نفاذ قانون اور عدالتی نظام میں انسانی حقوق پر مرتکز طریقہ ہائے کار کی کمی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ نفاذ قانون اور عدالتی نظام سے رابطوں کے موقع پر متاثرین کا صدمہ تازہ ہو جاتا ہے اور عموماً قانونی عمل کے نتائج سے متاثرین کے نقصان کا خاطرخواہ حد تک ازالہ نہیں ہو پاتا۔ 

پالیسی سازی میں متاثرین کے ساتھ ضروری حد تک مشاورت نہیں کی جاتی اور ان کے لیے تحفظ اور ازالے کا اہتمام ناکافی ہے۔ 

ٹومویا اوبوکاٹا کا کہنا ہے کہ انہیں انسانی سمگلنگ کے انسداد سے متعلق قوانین کے ذریعے جنسی کارکنوں کو ہدف بنانے پر بھی سخت تشویش ہے جس سے ان کے انسانی حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حقوق کی مزید پامالی کو روکنے کے لیے جنسی پیشے کو قانوناً پوری طرح غیرمجرمانہ سرگرمی قرار دیا جانا ضروری ہے۔ 

خصوصی اطلاع کار اور اقوام متحدہ کے دیگر ماہرین ادارے کے عملےکا حصہ نہیں ہوتے اور وہ کسی حکومت یا ادارے کے ماتحت کام نہیں کرتے۔ یہ اطلاع کار اور ماہرین انفرادی حیثیت میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اس کا کوئی معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔