انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سری لنکا کے بہتر مستقبل میں احتساب اہم: وولکر تُرک

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کا فضائی منظر۔
Unsplash/Jalitha Hewage
سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کا فضائی منظر۔

سری لنکا کے بہتر مستقبل میں احتساب اہم: وولکر تُرک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ سری لنکا کو جنگی جرائم سے لے کر انسانی حقوق کی پامالیوں، بدعنوانی اور اختیار کے ناجائز استعمال تک بہت سے معاملات میں احتساب کی کمی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے 2022 میں منصفانہ اور مزید مشمولہ معاشرے کا تقاضا کرنے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سری لنکا کو آگے بڑھنا ہے تو ان مسائل پر فوری قابو پانا ہو گا۔

Tweet URL

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے درکار تاریخی نوعیت کی تبدیلی آنے کا فوری امکان دکھائی نہیں دیتا۔ 

ان کا یہ پیغام ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایک نئی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر آیا ہے۔ اس رپورٹ میں 2022 کے معاشی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل اور ان پر قابو پانے کے مواقع کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

 سچائی کی تلاش 

اگرچہ سری لنکا میں دہائیوں پر محیط وحشیانہ خانہ جنگی 14 سال سے زیادہ عرصہ پہلے ختم ہو گئی تھی لیکن اس کے ہزاروں متاثرین اور ان کے خاندانوں کو اب بھی سچائی اور انصاف کی تلاش ہے۔ 

'او ایچ سی ایچ آر' نے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت نے حقائق تک پہنچنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار تجویز کیا ہے تاہم انصاف کے کسی بھی عبوری عمل کی کامیابی کے لیے متاثرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ بامعنی اور شفاف مشاورتیں ضروری ہیں۔ 

اس میں ہر طرح کی ہراسانی اور غیرقانونی نگرانی کے خاتمے اور متاثرین کو پیش آنے والے حالات کو تسلیم کرنے اور انہیں یاد رکھنے میں مددگار اقدامات بھی شامل ہیں۔ 

وولکر تُرک نے کہا کہ محض حقائق تک پہنچنا ہی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ احتساب کا واضح عزم اور دوررس تبدیلی لانے کے لیے سیاسی ارادہ بھی ہونا چاہیے۔

مجوزہ قوانین پر خدشات 

رپورٹ میں پارلیمنٹ میں لائے جانے والے انسداد دہشت گردی کے بِل اور نشرواشاعت کو باضابطہ بنانے جیسے نئے قوانین پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ 

اس میں سلامتی کے شعبے میں جامع اصلاحات بشمول فوجی اخراجات میں کٹوتی اور مسلح تنازعے سے متاثرہ علاقوں میں تعینات فوجی اہلکاروں کی تعداد میں کمی لانے کی ضرورت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ 

رپورٹ میں حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے نمایاں واقعات کی تفتیش اور ان پر قانونی کارروائی کی رفتار تیز کریں جن میں 2019 میں ایسٹر سنڈے پر بم حملوں کے واقعات بھی شامل ہیں جن میں 269 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

سری لنکا میں گزشتہ سال جولائی میں پٹرول کی کمیابی کے باعث فلنگ سٹیشنوں پر لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔
© UNICEF/Weerasinghe
سری لنکا میں گزشتہ سال جولائی میں پٹرول کی کمیابی کے باعث فلنگ سٹیشنوں پر لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔

سفارشات 

رپورٹ میں متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں حکومت سےکہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے معاشی اور سماجی حقوق کی ضمانت دے، بدعنوانی پر قابو پائے اور عبوری انصاف کے کامیاب اور پائیدار عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔ 

رپورٹ میں سیاست اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت بڑھانے اور ہر حکومتی سطح پر انتخابات کا آزادانہ و منصفانہ انعقاد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کی مطابقت سے عبوری انصاف کی فراہمی کے موثر اور بامعنی طریقہ ہائے کار میں تعاون کرے اور مصدقہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں پر پابندیاں لگائے۔