انسانیت کی بقاء کا انحصار باہمی تعاون پر ہے: سابا کوروشی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 77واں اجلاس منگل کی صبح نیویارک میں ختم ہوا۔ اس موقع پر اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے صدر سابا کوروشی نے واضح کیا کہ ارضی سیاسی مخاصمتوں کے ہوتے ہوئے ممالک کے مابین تعاون ناگزیر طور پر ضروری ہے۔
انہوں ںے تیزی سے رونما ہوتی موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور تعلیمی و صںفی عدم مساوات جیسی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بقا کا دارومدار تعاون پر ہے۔
سابا کوروشی نے حکومتوں پر پائیدار ترقی کے اقدامات کو بجٹ پالیسیوں، قومی ضابطوں اور صلاحیتیں پیدا کرنے کے اقدامات کا حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئیے اپنے وعدوں کے مطابق خرچ کریں۔
اسمبلی کا 77واں اجلاس رسمی طور پر گزشتہ برس 13 ستمبر کو شروع ہوا تھا جس میں مارچ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس جیسے نمایاں واقعات شامل ہیں۔ اس کانفرنس میں دنیا کے اہم قدرتی وسائل کی حفاظت اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم عملی منصوبے کی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر قدرتی آفات کے خطرات کو محدود کرنے، تمام لوگوں کے لیے انصاف یقینی بنانے، مشمولہ معاشروں، عالمگیر صحت اور پائیدار خرچ و پیداوار پر بھی اہم بات چیت ہوئی۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری
اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے اقوام متحدہ کے تین ستونوں یعنی امن، سلامتی، ترقی و انسانی حقوق کے بارے میں یاد دلایا اور سوال کیا کہ دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات کو دیکھا جائے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ آیا واقعی اقوام متحدہ کے چارٹر پر ہر جگہ عمل ہو رہا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ یوکرین میں جاری جنگ اور دنیا بھر میں مزید 51 مسلح تنازعات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی مطابقت سے ختم ہونے چاہئیں۔ انہوں ںے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور جوہری اسلحے کی دوڑ کا خاتمہ کرنے کے لیے بھی کہا۔
مستقبل کے مسائل کا حل
جنرل اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے صدر نے مسائل کے ایسے مربوط اور کُلی حل تلاش کرنے کی ضرورت بھی واضح کی جن سے ناصرف موجودہ مشکلات سے نمٹنے میں مدد ملے بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے بھی تحفط مہیا ہو سکے۔
انہوں ںے مالی مدد اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو دہراتے ہوئے کہا کہ مخصوص طریقہ ہائے کار سے صرف مخصوص نتائج ہی سامنے آئیں گے۔
وقت بدل رہا ہے
سابا کوروشی نے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ کے اہم اداروں میں اصلاحات اور ترقی کی ضرورت واضح کی۔
انہوں ںے کہا کہ 1952 میں اڑان بھرنے والے دنیا کے پہلے جیٹ طیارے میں 36 مسافر سوار تھے۔ یہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی جانب بہت بڑا قدم تھا۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کے ذریعے آج مریخ پر جا سکتے ہیں۔ وقت تبدیل ہو رہا ہے اور اسی طرح ادارے کو بھی تبدیل ہونا ہو گا۔
عہدے کا حلف
جنرل اسمبلی کے آرائشی ہال میں سبکدوش ہونے والے صدر کی تقریر کے بعد 78ویں اجلاس کے لیے منتخب ہونے والے صدر ڈینس فرانسس نے صدارت کے عہدے کا حلف اٹھایا اور اپنی بہترین صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے ذمہ داریاں انجام دینے کا عہد کیا۔
اس کے بعد صدر کوروشی نے معروف چوبی ہتھوڑی کو رسمی طور پر اپنے جانشین کے حوالے کرتے ہوئے اجلاس برخاست کر دیا۔